فتح اسلام — Page 16
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶ فتح اسلام نبیوں کا یہی تھا کہ ایک محل شناس لیکچرار کی طرح ضرورتوں کے وقتوں میں مختلف مجالس اور محافل میں اُن کے حال کے مطابق روح سے قوت پا کر تقریریں کرتے تھے مگر نہ اس زمانہ کے متکلموں کی طرح کہ جن کوا ۔ ح کہ جن کو اپنی تقریر سے فقط اپنا علمی سرمایہ دکھلا نام دکھلا نا منظور ہوتا ﴿۲۵﴾ ہے ۔ یا یہ غرض ہوتی ہے کہ اپنی جھوٹی منطق اور سوفسطائی حجتوں سے کسی سادہ لوح کو اپنے بیچ میں لاویں اور پھر اپنے سے زیادہ جھنم کے لائق کریں بلکہ انبیاء نہایت سادگی سے کلام کرتے اور جو اپنے دل سے ابلتا تھا وہ دوسروں کے دلوں میں ڈالتے تھے ۔ اُن ۲۶﴾ کے کلمات قدسیہ عین محل اور حاجت کے وقت پر ہوتے تھے اور مخاطبین کو شغل یا افسانہ کی طرح کچھ نہیں سناتے تھے بلکہ اُن کو بیمار دیکھ کر اور طرح طرح کے آفات روحانی میں مبتلا پا کر علاج کے طور پر اُن کو نصیحتیں کرتے تھے یا حجج قاطعہ سے اُن کے اوہام کو رفع فرماتے تھے ۔ اور اُن کی گفتگو میں الفاظ تھوڑے اور معانی بہت ہوتے تھے ۔ سو یہی قاعدہ یہ عاجز ملحوظ رکھتا ہے اور وار دین اور صادرین کی استعداد کے موافق اور اُن کی اس کے سامنے اس کی طرف اشارہ کر کے اُس پر لعنت کی اور باقی حواری جو بڑی دوستی کا دم بھرتے تھے بھاگ گئے اور اپنے دلوں میں مسیح کی نسبت کئی طرح کے شک انہوں نے پیدا کر لئے لیکن چونکہ وہ راستباز تھا اس لئے خدا نے پھر اس کے کارخانہ کو مرنے کے بعد زندہ کیا۔ مسیح کی دوبارہ زندگی جو عیسائیوں کے خیال میں جمی ہوئی ہے درحقیقت یہ اس کے مذہب کی زندگی کی طرف اشارہ ہے جو مرنے کے بعد پھر زندہ کیا گیا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے مجھے بھی بشارت دی کہ موت کے بعد میں پھر تجھے حیات بخشوں گا۔ اور فرمایا کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں وہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں اور فرمایا کہ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤں گا۔ پس میری اس دوبارہ زندگی سے مراد بھی میرے مقاصد کی زندگی ہے مگر کم ہیں وہ لوگ جوان بھیدوں کو سمجھتے ہیں۔ فقط منه