براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 382

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۲ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم کا استعمال اپنی اصل وضع پر ضروری اور واجب ہے۔ یعنی اس جگہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے تیری طبعی موت سے ماروں گا ۔ اسی وجہ سے اس نے آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کی یہ تفسیر کی کہ انسی ممیتک حتف انفک یعنی میں تجھے طبعی موت سے ماروں گا پس امام زمخشری کی نظر عمیق نہایت قابل تعریف ہے کہ انہوں نے لفظ تو فی کے صرف اصل وضع استعمال پر حصر نہیں رکھا بلکہ بالمقابل قرآن شریف کی ان آیتوں پر نظر ڈال کر کہ عیسی قتل نہیں کیا گیا اور نہ صلیب دیا گیا اصل وضع لفظ کے مطابق متوفیک کی تفسیر کر دی ۔ اور ایسی تفسیر بجز ماہر فن علم لغت کے ہر ایک نہیں کر سکتا ۔ یادر ہے کہ علامہ امام زمخشری لسان عرب کا مسلم عالم ہے اور اس فن میں اس کے آگے تمام ما بعد آنے والوں کا سر تسلیم خم ہے۔ اور کتب لغت کے لکھنے والے اس کے قول کو سند میں لاتے ہیں ۔ جیسا کہ صاحب تاج العروس بھی جا بجا اس کے قول کی سند پیش کرتا ہے۔ L اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ جب کہ آیت مَا قَتَلُوهُ يَقِينًا اور آیت وَمَا قَتَلُوهُ صرف توفی کے لفظ کی توضیح کے لئے بیان فرمائی گئی ہے کوئی نیا مضمون نہیں وَمَا صَلَبُوه صرف: ہے بلکہ صرف یہ تشریح مطلوب ہے کہ جیسا کہ لفظ مُتَوَفِيكَ میں یہ وعدہ تھا کہ عیسیٰ کو اس کی طبعی موت سے مارا جائے گا ۔ ایسا ہی وہ طبعی موت سے مر گیا ۔ نہ کسی نے قتل کیا اور نہ کسی نے صلیب دیا۔ پس یہ خیال بھی جو یہود کے دل میں پیدا ہوا تھا جو عیسی نعوذ باللہ لعنتی ہے اور اس کا روحانی رفع نہیں ہوا ساتھ ہی باطل ہو گیا ۔ کیونکہ اس خیال کی تمام بنا صرف قتل اور ۲۰ صلیب پر تھی اور اسی سے یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی ملعون اور راندہ درگاہ الہی ہیں چونکہ یہودیوں کے عقیدہ کے موافق کسی نبی کا رفع روحانی طبعی موت پر موقوف ہے اور قتل اور صلیب رفع روحانی کا مانع ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اوّل یہود کے رڈ کے لئے یہ ذکر فرمایا کہ عیسی کے لئے طبعی موت ہوگی اور پھر چونکہ رفع روحانی طبعی موت کا ایک نتیجہ ہے اس لئے لفظ متوفیک کے بعد رافعک التی لکھ دیا۔ تا یہودیوں کے خیالات کا پورا رڈ ہو جائے ۔ منہ ا النساء : ۱۵۸