براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 383
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۳ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم جن کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا۔ پس چونکہ متوفیک کے لفظ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے یہ شہادت دی کہ عیسی اپنی طبعی موت سے مرا ہے اور پھر خدا نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ متوفیک کے لفظ کا جو اصل منشاء تھا یعنی طبعی موت سے مرنا اس منشاء کی آیت ماقتلوه و ما صلبوه اور آیت وما قتلوہ یقینا کے ساتھ پورے طور پر تشریح کر دی۔ کیونکہ جس شخص کی موت قتل وغیرہ خارجی ذریعوں سے نہیں ہوئی اس کی نسبت یہی سمجھا جائے گا کہ وہ طبعی موت سے مرا ہے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ فقرہ وما قتلوه وما صلبوه، متوفّیک کے لفظ کے لئے بطور تشریح واقع ہوا ہے۔ اور ب قتل اور صلیب کی نفی ثابت ہوئی تو بموجب اس قول کے کہ اذا فــات الشرط فات المشروط، رفع الى الله حضرت عیسیٰ کا ثابت ہو گیا اور یہی مطلوب تھا۔ اور پھر ہم اپنی پہلی کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ جس جگہ کسی کلام میں توفی کے لفظ میں خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی شخص نام لے کر اس فاعل لے کر اس فاعل کا مفعول به قرار دیا جائے ایسے فقرہ کے ہمیشہ یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس شخص کو مار دیا ہے یا مارے گا کوئی اور معنے ہرگز نہیں ہوتے ۔ اور میں نے مدت ہوئی کہ اسی ثابت شدہ امر پر ایک اشتہار دیا تھا کہ جو شخص اس کے برخلاف کسی حدیث ی حدیث یا دیوان مستند عرب سے کوئی ایسا فقرہ پیش کرے گا جس میں باوجود اس کے کہ توفی کے لفظ کا خدا فاعل ہو اور کوئی علم مفعول به ہو یعنی کوئی ایسا شخص یہ نص مفعول بہ ہو جس کا نام لیا گیا ہو مگر با وجود اس باوجود اس امر کے اس جگہ وفات دینے کے معنے نہ ام ہوں تو اس قدر اس کو انعام دوں گا ۔ اس اشتہار کا آج تک کسی نے جواب نہیں دیا ۔ اب پھر اتمام حجت کے لئے دو شور و بی نفق لئے دوستور و پیہ نقد کا اشتہار دیتا ہوں کہ اگر کوئی ہمارا مخالف ہمارے اس بیان کو یقینی اور قطعی نہیں سمجھتا تو وہ احادیث صحیحہ نبویہ یا قدیم شاعروں کے اقوال میں سے جو مستند ہوں اور جو عرب کے اہل زبان اور اپنے فن میں مسلم ہوں کوئی ایک ایسا فقرہ پیش کرے جس میں ۲۱۱ توفی کے لفظ کا خدا فاعل ہوا اور مفعول یہ کوئی علم ہو جیسے زید اور بکر اور خالد و غیرہ اور اس فقرہ کے معنے ببداہت کوئی اور ہوں وفات دینے کے معنی نہ ہوں تو ایسی صورت میں میں ایسے شخص کو