براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 381

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۱ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ☆ بے مثل امام جس کے مقابل پر کہ ، مقابل پر کسی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں یعنی علامہ زمخشری آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے یہی معنی کرتا ہے کہ اِنِّی مُمِیتک حتف انفک ۔ یعنی اے عیسیٰ! میں تجھے طبعی موت ماروں گا ۔ حتف لغت عرب میں موت کو کہتے ہیں اور انف کہتے ہیں ناک کو۔ اور عربوں میں قدیم سے یہ عقیدہ چلا آتا ہے کہ انسان کی جان ناک کی راہ سے نکلتی ہے۔ اس لئے طبعی موت کا نام انہوں نے حتف انف رکھ دیا۔ اور عربی زبان میں توفی کے لفظ کا اصل استعمال طبعی موت کے محل پر ہوتا ہے اور جہاں کوئی شخص قتل کے ذریعہ سے ہلاک ہو وہاں قتل کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور یہ ایسا محاورہ ہے کہ جو کسی عربی دان پر پوشیدہ نہیں ۔ ہاں یہ عرب کے لوگوں کا قاعدہ ہے کہ کبھی ایسے لفظ کو کہ جو اپنی اصل وضع میں استعمال اس کی کسی خاص محل کے لئے ہوتا ہے ایک قرینہ قائم کر کے کسی غیر محل پر بھی مستعمل کر دیتے ہیں یعنی استعمال اس کا وسیع کر دیتے ہیں۔ اور جب ایسا قرینہ موجود نہ ہو تو پھر ضروری ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں وہ لفظ اپنی اصل وضع پر استعمال پاوے ۔ سو اس جگہ جو علامہ امام زمخشری نے ۲۰۹ زیر آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ یہ لکھا ہے کہ انی متوفیک حتف انفک یعنی اے عیسیٰ میں تجھے تیری طبعی موت سے ماروں گا ۔ ان معنوں کے کرنے میں علامہ موصوف نے صرف لفظ توفی کی اصل وضع استعمال پر نظر نہیں رکھی بلکہ مقابل پر اس آیت کو دیکھ کر کہ ماقتلوہ یقینا اور اس آیت کو دیکھ کر کہ ما قتلوه و ما صلبوه اس بات پر قرینہ تو یہ پایا کہ اس جگہ لفظ متوفیک واضح رہے کہ اس جگہ جو ہم نے زمخشری کو علامہ اور امام کے نام سے یاد کیا ہے وہ محض باعتبار متبحر فن لغت ل کے ہے کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ شخص زبان عرب کی لغات اور ان کے استعمال کے محل اور مقام اور ان کے الفاظ فصیح اور غیر فصیح اور لغت جید اور لغت رڈی اور مترادف الفاظ کے فروق اور خصوصیتیں اور اُن کی ترکیبات اور اُن کے الفاظ قدیم اور مستحدث اور قواعد لطیفہ صرف و نحو و بلاغت سے خوب ماہر اور ان سب باتوں میں امام اور علامہ وقت تھا نہ کہ اور کسی بات میں ۔ منہ حاشيه لیے سہو کتابت ہے۔ درست ممیتک ہے جیسا کہ اسی صفحہ کی دوسری سطر میں تحریر ہے۔ (ناشر)