براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 331

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۳۱ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم تجلى عليهم ربهم ربُّ ما بدا ففروا الى النور القديم و آبدروا (۱۷۳) ان پر ان کا خدا متجلی ہوا جو تمام مخلوقات کا خدا ہے پس وہ نور قدیم کی طرف جلدی سے بھاگے تَرَاهُمْ تفيض دموعهم من صبابة وفي القلب نيران و رأس مغبر تو دیکھے گا ان کو کہ ان کے آنسو جاری ہیں غلبہ محبت الہی سے اور دل میں طرح طرح کی آگ ہے اور سر پر غبار ہے انارت بنور الاتقاء وجوههم فتعرفهم عيناك لو لا التكدر تقویٰی کے نور کے ساتھ اُن کے منہ روشن ہو گئے پس تیری آنکھیں ان کو پہچان لیں گی اگر کدورت لاحق حال نہ ہو يميلون قلب الخلق نحو نفوسهم بناظرة تصبو اليها الخواطر لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کر دیتے ہیں اُس آنکھ کے ساتھ کہ اس کی طرف دل میل کرتے ہیں كان حيات القوم تحت حياتهم بهم زرع دين الله يبدو و يجدر گویا قوم کی زندگی ان کی زندگی کے نیچے ہے ان کے ساتھ دین کا کھیت ظاہر ہوتا اور اپنا سبزہ نکالتا ہے و ان كنت تبغى زورهم زربخلة وجوهٌ من الاغيار تخفى و تستر پس اگر تو ان کو دیکھنا چاہتا ہے تو دوستی کے ساتھ دیکھ وہ ایسے منہ ہیں جو غیروں سے چھپائے جاتے ہیں کذلک طلعت شمسنافى ستارة فقلتُ امكثى حتى انير و ابهر اسی طرح ہمارا سورج پردہ میں چڑھا پس میں نے سورج کو کہا کہ ٹھہر جا جب تک میں روشن ہو جاؤں اور دوسری روشنیوں پر غالب ہو جاؤں ولسنا بمستور على عين طالب يرانا الـذي يـأتـي ويـرنـو و ينظر ہمیں وہ شخص دیکھ لے گا جو آئے گا اور نظر کرنے میں اور ہم ڈھونڈنے والے کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ہیں طریق مداومت اختیار کرے گا و لا جبر ان تكفر و ان كنت مؤمنًا فحسبك ما قال الكتاب المطهر اور اگر تو ایمان لاوے تو ایمان کے لئے تجھے کتاب اللہ اور اگر تو انکار کرے تو تیرے پر کوئی جبر نہیں کافی ہے۔ و والله لا انسى همومًا لقيتها بتكفير قومی حین اذوا و كفروا اور بخدا میں ان غموں کو نہیں بھولتا جو میں نے و نے دیکھے باعث تکفیر قوم کے جب کہ انہوں نے مجھے دکھ دیا اور کا فر ٹھہرایا ۱۶۴