براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 330
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۳۰ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ۱۲۲) جزى الله عَنّا دائما ذلك الفتى قضى نحبه لله فاذکر و فکر ۱۶۳ خدا ہم سے اس جوان کو بدلہ دے وہ اپنی جان خدا کی راہ میں دے چکا پس سوچ اور فکر کر عباد يكون كمبسرات وجودهم اذا ما اتوا فالغيث يأتي و يمطر یہ وہ بندے ہیں کہ مان سون ہوا کی طرح ان کا وجود ہوتا ہے جب آتے ہیں پس ساتھ ہی بارش رحمت کی آتی ۔ ہے أتعلم ابدالا سواهم فانهم رموا بالحجارة فاستقاموا و أجمروا وہ لوگ ہیں جن پر پتھر چلائے گئے پس انہوں نے کیا تو ان کے سوا کوئی اور لوگ ابدال جانتا ہے کیونکہ وہ لوگ استقامت اختیار کی اور ان کی جمعیت باطنی بحال رہی بقي معرفت اور محبت الہیہ سے معمور ہو کر واپس اپنے وطن کی طرف گئے اور ان کے گھر پہنچنے پر امیر کابل کے پاس مخبری کی گئی کہ وہ قادیان گئے اور بیعت کر کے آئے ہیں اور اب اعتقاد رکھتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود جو آنے والا تھا وہی اُن کا مرشد ہے۔ اس مخبری پر مصالح ملکی کی بنا پر مولوی صاحب موصوف گرفتار کئے گئے اور ایک بڑا از نجیر اُن کے پاؤں میں ڈالا گیا اور کابل کے علماء نے فتوی دیا کہ اگر یہ شخص تو بہ نہ کرے تو واجب القتل ہے اور سرزمین کابل کے مولویوں سے ان کی بحث کرائی گئی اور ہر ایک بات میں مولویوں کو انہوں نے لا جواب کیا اور پھر یہ عذرا ٹھایا گیا کہ یہ شخص جہاد کا بھی منکر ہے۔ اور یہ اعتراض سچ تھا کیونکہ میری تعلیم یہی ہے کہ یہ وقت تلوار چلانے کا وقت نہیں بلکہ اس زمانہ میں پُر زور تقریروں اور دلائل ساطعہ اور بیج باہر اور دعاؤں کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے۔ غرض اس آخری اعتراض میں مولوی صاحب موصوف ملزم ٹھہر گئے امیر کابل نے کئی مرتبہ فہمائش کی کہ آپ صرف اس شخص کی بیعت سے دست بردار ہو جائیں جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا اور مسئلہ جہاد بالسیف کا مخالف ہے۔ تو پھر آپ بری ہیں بلکہ آپ کی عزت اور عظمت اور بھی کی جائے گی مگر مولوی صاحب نے قبول نہ کیا اور کہا کہ میں نے آج ایمان کو اپنی جان پر مقدم کر لیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ جس کی میں نے بیعت کی ہے وہ سچا ہے اور روئے زمین پر اس جیسا دوسرا نہیں۔ اور پھر جب اُن کی توبہ سے نومیدی ہوئی تو بڑی بے رحمی سے سنگسار کئے گئے ۔ دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ آج تک ان کی قبر میں سے مشک کی خوشبو آتی ہے۔ رحمه الله و أدخله في جنانه - جب وہ پکڑے گئے تو کہا گیا کہ اولاد اور بیوی سے ملاقات کرلو۔ فرمایا کہ مجھے کچھ ضرورت نہیں۔ ان کے بارے میں خاص ایک رسالہ چھپ چکا ہے۔ رضی الله عنه منه