براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 169

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۹ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کی ہے جس میں کھجوروں کے درخت ہیں۔ پس میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ زمین یمامہ یاز مین ہجر ہے مگر وہ مدینہ نکلا یعنی یثرب ۔ اب دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کی رؤیا وحی ہے اور جن کا اجتہاد سب اجتہادوں سے اسلم اور اقوئی اور اصح ہے اپنی رؤیا کی یہ تعبیر کی تھی کہ یمامہ یا ہجر کی طرف ہجرت ہوگی۔ مگر وہ تعبیر صیح نہ نکلی۔ پس کیا یہ پیشگوئی آپ کے نزدیک پیشگوئی نہیں ہے؟ اور کیا آپ طیار ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک حملہ کر دیں۔ پس جب کہ اجتہادی غلطی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہیں تو پھر آپ کا یہ کیا ایمان ہے کہ تعصب کے جوش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی بھی کچھ پروا نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ سے کچھ شرم نہیں۔ اور پھر سچے منصف بن کر اور خدا ترسی کا دھیان رکھ کر عفت الدیار کے الفاظ کی طرف دیکھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ طاعون پر صادق آتے ہیں یا زلزلہ پر۔ کیا یہ ایمانداری ہے کہ جب کہ واقعہ موعودہ کے ظہور نے عفت الدیار کے معنوں کو خود کھول دیا پھر بھی اس سے مراد طاعون ہی سمجھیں ۔ اس پیشگوئی کے الفاظ صاف طور پر پکار رہے ہیں کہ وہ ۱۲ ایک حادثہ ہے جس سے عمارتیں گر جائیں گی اور ایک حصہ ملک کی بستیوں کا نا بود ہو جائے گا۔ اگر آپ عربی نہیں جانتے تو کسی عربی دان سے پوچھ لیں کہ عفت الديار محلها و مقامها کے کیا معنے ہیں اور اگر کسی پر اعتبار نہ ہو تو اس مصرع کے معنے جو شارح نے لکھے ہیں وہ دیکھ لیں اور وہ معنے یہ ہیں اِنْدَرَسَتْ دِيَارُ الْأَحْبَابِ وَالْمَحَى مَا كَانَ مِنْهَا لِلْحَوْلِ وَمَا كَانَ لِلأَقَامَةِ ( دیکھو معلقہ چہارم شرح مصرع اول ) یعنی دوستوں کی بستیاں اور اُن کے گھر نا بود ہو گئے اور وہ عمارتیں نابود ہوگئیں جو چند روزہ اقامت کے لئے تھیں جیسے سرائے یا قوموں کی زیارت گا ہیں ۔ ا تا ہیں ۔ اور وہ عمارتیں بھی نابود ہو گئیں جو مستقل سکونت کی تھیں ۔ اب بتلاؤ یہ معنے طاعون پر کیونکر صادق آسکتے ہیں اور طاعون کو عمارتوں کے گرنے سے کیا تعلق ہے۔ ان معنوں میں اور خدا تعالیٰ کی وحی کے معنوں میں صرف ماضی اور ☆ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے لِلْحَلُولِ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)