براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 168

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۸ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم اور جو اس کے سیاق اور سباق سے مترشح ہورہے ہیں اور جو معنے واقعہ کے ظہور سے کھل گئے ہیں اور انسانی کانشنس نے قبول کر لیا ہے کہ جو کچھ ظاہر ہوا ہے وہ وہی ہے جو عفت الديار کے الہام سے نکلتا ہے پھر اس کے انکار پر اصرار کرے اگر فرض بھی کر لیں کہ خود ملہم نے اپنے اجتہاد کی غلطی سے اس حادثہ کو جو عفت الدیار کے الہام سے ظاہر ہوتا ہے طاعون ہی سمجھ لیا تھا تو اس کی به غلطی که قبل از وقوع ہے مخالف کے لئے کوئی حجت نہیں ۔ دنیا میں کوئی ایسا نبی یا رسول نہیں گذرا جس نے اپنی کسی پیشگوئی میں اجتہادی غلطی نہ کی ہو تو کیا وہ پیشگوئی آپ کے نزد یک خدا تعالیٰ کا ایک نشان نہ ہوگا اگر یہی کفر دل میں ہے تو دبی زبان سے کیوں کہتے ہو پورے طور پر اسلام پر کیوں حملہ نہیں کرتے کیا کسی ایک نبی کا نام بھی لے سکتے ہو جس نے کبھی اجتہادی طور پر اپنی کسی پیشگوئی کے معنے کرنے میں غلطی نہیں کھائی۔ تو پھر بتلاؤ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ لفظ متعلق کے معنے بعینہ طاعون ہے تو کیا یہ حملہ تمام انبیاء پر نہیں ۔ عفت الدیار کے الہامی فقرہ پر نظر ڈال ۱۵﴾ کر صاف ظاہر ہے کہ اس فقرہ سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسا حادثہ ہوگا کہ ایک حصہ ملک کی عمارتیں اس سے گر جائیں گی۔ اور نابود ہو جائیں گی ۔ اور ظاہر ہے کہ طاعون کا عمارتوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا ۔ پس اگر ایڈیٹر اخبار الحکم نے ایسا لکھ بھی دیا کہ یہ فقرہ طاعون سے متعلق ہے اور تعلق سے وہ معنے سمجھے جائیں جو معترض نے کئے ہیں تو غایت مافی الباب یہ کہا جائے گا کہ ایڈیٹر الحکم نے ایسا لکھنے میں غلطی کی۔ اور ایسی غلطی خود انبیاء علیهم السلام سے پیشگوئیوں کے سمجھنے میں بعض دفعہ ہوتی رہی ہے۔ جیسا کہ ذهب وھلی کی حدیث بخاری میں موجود ہے اور اس کے لفظ یہ ہیں ۔ قال ابو موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم رئيت في المنام اني اهاجر من مكة الى ارض بها نخل فذهب وهلى الى انها اليمامة اوهجر فاذا هي المدينة يثرب (بخاری جلد ثانى باب هجرة النبي صلى الله عليه و سلم واصحابه الى المدينه ( یعنی ابو موسیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ