براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 170
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۷۰ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم مضارع کا فرق ہے یعنی لبید نے اس جگہ ماضی کے معنے ملحوظ رکھے اور خدا تعالیٰ کے کلام میں اس جگہ استقبال کے معنے ہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ایک حصہ ملک کی عمارتیں اور بستیاں نابود ہو جائیں گی۔ نہ عارضی سکونتیں باقی رہیں گی نہ مستقل سکونتیں ۔ اب بتلاؤ کہ کیا یہ معنے طاعون پر صادق آسکتے ہیں؟ اب ہٹ دھرمی کرنا کیا فائدہ۔ ناحق کی ضد دو ہی قسم کے آدمی کیا کرتے ہیں یا سخت احمق یا سخت بے ایمان اور متعصب ۔ پھر اگر آپ وہی اعتراض پیش کریں جس کا پہلے بھی جواب دیا گیا ہے یعنی یہ کہ یہ ماضی کا صیغہ ہے اور لبید رضی اللہ عنہ نے ماضی کے معنوں پر استعمال کیا ہے تو اس کا جواب پہلے بھی گزر چکا ہے کہ اب یہ کلام لبید کا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے ۔ خدا تعالیٰ نے جابجا قرآن شریف میں عظیم الشان پیشگوئیوں کو ماضی کے لفظ سے بیان کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبَّتْ يَدَا ابی لَهَبٍ وَتَبَّ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ اب ذره اب ذرہ کچھ انصاف کو کام با کو کام میں لا کر جواب دو کہ اس پیشگوئی کے الفاظ ماضی کے صیغہ میں ہیں یا مضارع کے صیغہ میں ۔ عقل مند کے لئے تو یہ ایک سخت ندامت کا موقعہ ہے بلکہ ایسی غلطی مرنے کی جگہ ہو جاتی ہے جب کہ ایک شخص با وجود دعوے علم ایک بدیہی امر کا انکار کرے۔ مگر میں سمجھ نہیں سکتا کہ ان جوابات کے پرکھنے کے بعد آپ کی کیا حالت ہوگی ۔ انسان کو ایسا طریق اختیار کرنے سے کیا فائدہ جس سے ایک طرف حق کو ترک کر کے خدا تعالیٰ کو ناراض کرے اور دوسری طرف ناحق پر ضد کر کے شرمندگی اور رُسوائی اُٹھاوے اور خدا تعالیٰ کی کلام میں جو اکثر پیشگوئیوں کو ماضی کے صیغہ میں بیان کیا گیا ہے اس کی اصل فلاسفی یہ ہے کہ ہر ایک وان واقعہ جو زمین پر ہونے والا ہے وہ پہلے ہی آسمان پر ہو چکتا ہے۔ پس آسمان کے لحاظ سے گویا وہ واقعہ بائبل میں بھی بہت جگہ آئندہ واقعات کو ماضی کے صیغہ میں بیان کیا گیا ہے جیسا کہ یہ فقرہ بابل گر پڑا ، بابل گر پڑا۔ دیکھو یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۵ اور جیسا یہ فقرہ ۔ ہائے نبو پر کہ وہ ویران ہو گیا۔ قریتیم رسوا ہوا۔ دیکھو بر میاه باب ۴۸- آیت ا- منه ل اللهب : ٣٢ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے آیت ۹ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)