براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 130
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۰ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۰۰ اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پر اپنے تا وہ ہوویں رستگار کس طرح پیٹیں کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سو ہر کنار ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناخدا آگیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار نور دل جاتا رہا اور عقل موٹی ہوگئی اپنی کج رائی پر ہر دل کر رہا ہے اعتبار جس کو ہم نے قطرۂ صافی تھا سمجھا اور تقی غور سے دیکھا تو کیڑے اُس میں بھی پائے ہزار دور بین معرفت سے گند نکلا ہر طرف اس وبا نے کھالئے ہر شاخ ایمان کے ثمار اے خدا بن تیرے ہو یہ آبپاشی کس طرح جل گیا ہے باغ تقویٰ دیں کی ہے اب اک مزار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار اک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں اک نظر کر اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی کہ کیسے سو گئے کس قدر ہے حق سے نفرت اور ناحق سے پیار عقل پر پردے پڑے سوسو نشاں کو دیکھ کر نور سے ہوکر الگ چاہا کہ ہوویں اہلِ نار گر نہ ہوتی بدگمانی کفر بھی ہوتا فنا اُس کا ہو وے ستیا ناس اِس سے بگڑے ہوشیار بدگمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پر کے اک ریشہ سے ہو جاتی ہے کووں کی قطار حد سے کیوں بڑھتے ہو لوگو کچھ کرو خوفِ خدا کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار کیا خدا نے اتقیا کی عون و نصرت چھوڑ دی ایک فاسق اور کافر سے وہ کیوں کرتا ہے پیار ایک بدکردار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار کیا بدلتا ہے وہ اب اس سنت و قانون کو جس کا تھا پابند وہ از ابتدائے روزگار آنکھ گر پھوٹی تو کیا کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا کیا خدا دھوکے میں ہے اور تم ہو میرے راز دار جس کے دعوے کی سراسر افترا پر ہے بنا اُس کی یہ تائید ہو پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار