براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 129
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲۹ براہین احمد یہ حصہ پنجم گیا وہ سارے مرحلے طے کر چکے تھے علم کے کیا نہ تھی آنکھوں کے آگے کوئی رہ تاریک و تار دل میں جو ارماں تھے وہ دل میں ہمارے رہ گئے دشمن جاں بن گئے جن پر نظر تھی بار بار ایسے کچھ بگڑے کہ اب بننا نظر آتا نہیں آہ کیا سمجھے تھے ہم اور کیا ہوا ہے آشکار کس کے آگے ہم کہیں اس دردِ دل کا ماجرا اُن کو ہے ملنے سے نفرت بات سننا درکنار کیا کروں کیونکر کروں میں اپنی جاں زیر و زبر کس طرح میری طرف دیکھیں جو رکھتے ہیں نقار اس قدر ظاہر ہوئے ہیں فضل حق سے معجزات دیکھنے سے جن کے شیطاں بھی ہوا ہے دلفگار پر نہیں اکثر مخالف لوگوں کو شرم و حیا دیکھ کر سو سونشاں پھر بھی ہے تو ہیں کاروبار صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ مرا پھیر دے میری طرف اے سارہاں جگ کی مہار کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے خاک میں ہوگا یہ سرگر تو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اسوقت کر میری مدد کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تا نہ خوش ہو دشمنِ دیں جس پہ ہے لعنت کی مار میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کو سن میں ہو گیا زار و نزار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفیٰ مجھ کو کر اے میرے سلطاں کامیاب و کامگار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد یہ تو تیرے پر نہیں امید اے میرے حصار یا الہی فضل کر اسلام پر اور خود بچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سن لے پکار قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے چھا رہا ہے ابر یاس اور رات ہے تاریک و تار ایک عالم مرگیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولی اس طرف دریا کی دھار