براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 131
روحانی خزائن جلد ۲۱ السما براہین احمدیہ حصہ پنجم کیا خدا بھولا رہا تم کو حقیقت مل گئی کیا رہا وہ بے خبر اور تم نے دیکھا حال زار 101 بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہیں بیشمار جہل کی تاریکیاں اور سوء ظن کی تند باد جب اکٹھے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار زہر کے پینے سے کیا انجام جز موت و فنا بدگمانی زہر ہے اس سے بچو اے دیں شعار کانٹے اپنی راہ میں بوتے ہیں ایسے بدگمان جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار یہ غلط کاری بشر کی بد نصیبی کی ہے جڑ پر مقدر کو بدل دینا ہے کس کے اختیار سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہم کو سہار جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار ہے سر رہ پر مرے وہ خود کھڑا موٹی کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریران دیار سنت اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے تا عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مردار خوار مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اک میرا معیں تیغ کو کھینچے ہوئے اُس پر جو کرتا ہے وہ وار دشمن غافل اگر دیکھے وہ بازو وہ سلاح ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب نقار اس جہاں کا کیا کوئی داور نہیں اور داد گر پھر شریر النفس ظالم کو کہاں جائے فرار کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار آسمان پر دعوت حق کیلئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار آرہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں شمار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اُس کا انتظار سے مستانہ وار