آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 302

روحانی خزائن جلد ۴ ٣٠٢ الحق مباحثہ دہلی ۱۷۲ کو واسطے تائید معنے قراءت متواترہ کے لانا باطل ثابت ہوا اور اس کا جناب سے مطالبہ ہے قولہ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر اس معنے کی صحت پر معترض ہیں اقول جواب اس کا مکر رسہ کر ر گذر چکا۔ بھلا تیرہ سو برس کی تفاسیر اس قدر کثیر کا مقابلہ صرف ایک تفسیر ابن جریر ومن تبعہ یعنے ابن کثیر کیا کرے گی وللاكثر حكم الكل والنادر کالمعدوم علاوہ یہ کہ اقوال مندرجہ ابن جریر معارض ہیں نصوص قرآن مجید اور حدیث شریف کے فتسقط لا محالة قوله محض غلط ہے الح اقول یہ ثبوت تعارض بين المعنيين کی کیا عمدہ دلیل ارشاد ہوئی ہے سبحان اللہ مگر یہ تو ارشاد ہو کہ یہ تعارض کونسا ہے آیا صرف تعارض عرفی بمعنے متعدد کے ہے یا بمعنے تناقض منطقی کے۔ بشق اول حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں دو متعدد معنے جمع ہو سکتے ہیں مثلت مثلاً یہ معنے کہ ہر ایک اہل کتاب کو قبل موت عیسی بن مریم کے یہ خیالات شک و شبہ صلب وقتل کے حضرت عیسی بن مریم کی نسبت چلے آتے ہیں جو اس آیت کے اوپر مذکور ہیں اور ان کو ان شبہات کے ہونے پر یقین ہے اور یہ معنے کہ ہر ایک اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے اس بیان مذکورہ بالا پر ایمان ویقین رکھتا ہے کہ مسیح بن مریم یقینی طور پر صلب وقتل کی موت سے نہیں مرا اس کے قتل یا صلب کی نسبت صرف شکوک و شبہات ہیں علی ھذا القیاس اور معانی جو حضرت اقدس نے ازالہ وغیرہ میں بہ سبب زوالوجوہ ہونے آیت کے لکھے ہیں وہ متناقض نہیں جو باہم جمع نہ ہوسکیں۔ اور بشق ثانی ان دونوں معنوں میں تناقض ثابت فرمایا جاوے ورنہ حضرت مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ الہامی معنے ان معنوں کے مغائر نہیں بہت درست اور نہایت صحیح ہے۔ پھر سخت تعارض اور بین تخالف کیسا۔ یہ کیا ضرورت ہے کہ در صورت ارجاع اس ضمیر کی طرف کتابی کے ہونے میں ہم نے ان دونوں معنی کا غیر متناقض ہونا ثابت کر دیا اور نہ جمع کیوں ہو سکتی اجتماع النقيضين تو درست ہے ہی نہیں اور حضرت مرزا صاحب یہ کب کہتے ہیں کہ ضمیر قبل موتہ کی طرف عیسی بن مریم کے رجوع نہیں ہو سکتی وہ تو یہ کہتے ہیں کہ در صورت ارجاع ضمیر کے طرف عیسی بن مریم کے وہ معنے جو آپ کرتے ہیں وہ مور د فساد ہیں اور اس وجہ سے قابل تسلیم نہیں ہیں اور آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَب کو وفات مسیح میں مرزا صاحب نے کسی جگہ یقینی صريحة الدلالت اور قطعية الدلالت نہیں لکھا ہاں وفات مسیح میں بطور اشارۃ النص کے لکھا ہے اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ آیت ذوالوجوہ کا با وجود اقرار زوالوجوہ ہونے کے ایک وجہ پر اصرار کر کر اس وجہ کو قطعی الدلالت کہہ دینا اور باقی وجوہ کا بلا دلیل جحد و انکار کرنا وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ کا مصداق ہے یا نہیں۔ قولہ یہ امر مسلم ہے الخ ۔ النمل : ۱۵