آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 301

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۰۱ الحق مباحثہ دہلی قراءت کو واسطے تائید معنی قراءت متواترہ کے لائے ہیں قوله معنے مذکور کا فساد اس وجہ سے نہیں ہے اے ا الح اقول جب کہ اس معنے کا فساد جو آپ کے معنے کے مخالف ہیں۔ اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ مخالف ہو قاعدہ نحو کے تو پھر اور کس وجہ سے وہ فساد ہے بیان فرمایا جاوے ہم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کے معنے قاعدہ نحو کے سراسر موافق ہیں لیکن اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ دوسرے معنے جو حسب اقرار جناب کے مخالف قاعدہ نحو کے نہیں ہیں وہ فاسد اور باطل ہوں ۔ یہ کیسا معما ارشاد فرمایا گیا ذرا سوچکر اور تامل فرما کر توضیح اس کی فرمائی جاوے قوله پس اس قول کا کذب كالشمس في نصف النهار ظاہر ہو گیا اقول یہ بات اپنے محل پر ثابت ہو چکی ہے کہ جب صرف اقوال رجال میں بحث آ کر پڑتی ہے تو لحاظ کثرت اقوال کا کیا جاتا ہے نہ قلت کا پس اگر تمام جہان کی تفسیروں میں سے ایک تفسیر ابن جریر جناب نے پیش فرمادی اور ابن کثیر اس کا تابع ہوا تو اس سے قطعیت معنے جناب کی کیونکر حاصل ہو گئی۔ ایک یا دو مفسرین تو ایک طرف اور تمام جہان کی تفسیریں دوسری طرف ۔ اب آپ ہی انصاف سے فرماویں کہ کس کو ترجیح دی جاوے گی پھر اگر حضرت اقدس مرزا صاحب نے بموجب مثل مشہور و مقبول وللاكثر حكم الكکل کے ایسا کچھ ارشاد فرمایا کہ سب کے سب آپ ہی کے معنے کو ضعیف ٹھہراتے ہیں تو اس قول کا کذب كالشمس في نصف النهار کیونکر ظاہر ہو گیا۔ بحكم النادر كالمعدوم وللاكثر حکم الکل کے یہ تو عکس القضیہ ہے اور پھر یہ سب مضمون اس صورت میں ہے کہ معنے مطلوب جناب کے نصوص کے متعارض نہ ہوتے در صورتیکہ یہ معنی متعارض نصوص بینہ کے ہیں تو پھر ابن جریر کے قول سے جس کا تابع ابن کثیر بھی ہو گیا ہے قطعیت آپ کے معنے کی اور بطلان دوسرے معنے کا کیونکر ثابت ہو سکتا ہے بینوا توجروا قوله بالجملہ مقصود رفع مخالفت ہے نہ اثبات دعوئی ۔ اقول بڑے تعجب کی بات ہے جب آپ کے معنے پر کوئی بڑا فساد لازم آتا ہے تب آپ دعوے ہی سے دست بردار ہو جاتے ہیں اور پھر بھی اپنے دعوے کو قطعی الثبوت فرمائے جاتے ہیں۔ جناب من اگر معنے قراءت متواترہ کے وہ کئے جاویں جو قراءت غیر متواترہ سے ثابت ہوتے ہیں تو پھر دعوے جناب پر اب کونسی دلیل باقی رہ گئی ۔ مولا نا رفع مخالفت جو آپ کیا کریں ذرہ سوچ کر اور تامل فرما کر کیا کریں وہ رفع مخالفت ہی کیا ہوا جس سے دعوی بالکل نیست و نابود ہو جاوے۔ وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْ لَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَانا قوله سند میں جو جرح ہے وہ الخ اقول کوئی ایسی جرح جناب نے بیان نہیں فرمائی جس سے تمام مفسرین محققین کا اس قراءت غیر متواترہ ل النحل : ٩٣