آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 303

روحانی خزائن جلد ۴ ٣٠٣ الحق مباحثہ دہلی اقول یہ ایک نزاع لفظی ہے اور مرزا صاحب کو کچھ مصر نہیں ۔ کسی کلمہ کے تکلم کے بعد متصلہ کا زمانہ آپ ۱۷۳ کے نزدیک استقبال قریب ہے اور اہل عربیہ کے نزدیک حال ہے۔ مطول اور ہوامش اس کے سے یہ مطلب ثابت ہو چکا اور ایسے مناقشات کرنے کی نسبت عرف اور اہل عربیہ کی طرف سے محشیان مطول وغیرہ یہ کہہ چکے کہ یہ مناقشات واہیہ ہیں قولہ فرق نہ کرنا الخ اقول فرق کرنا ایسی عرفی باتوں میں جو نہایت درجہ کی موشگافی ہے لا حاصل ولا طائل ہے جو منجملہ مناقشات واہیہ کے ہیں نہ داب محصلین جیسا کہ ماہر علم عربیہ وفنون بلاغت بلکہ قاصر پر بھی مخفی نہیں قولہ بلکہ کہا گیا ہے کہ اس کا ایفا الح اقول اس کے کیا معنے کہ مجاہدہ تو کریں زمانہ حال میں اور ہدایت حاصل ہو کسی زمانہ نا معلوم آئندہ میں ۔ اے مولانا مجاہدہ کے ساتھ ہی بطور اتصال لزومی کے ہدایت الہی فوراً اور معاً پہنچ جاتی ہے بلکہ مجاہدہ فی اللہ بھی خود ہدایت سے ہی ہوتا ہے۔ مجاہدہ اور ہدایت کا ایسا اتصال ہے جیسا طلوع شمس اور وجود نہار میں۔ اگر جناب کو اس میں کچھ کلام ہوگا تو انشاء اللہ تعالیٰ اس بارہ میں دلائل علمیہ کتاب وسنت سے پیش کی جاویں گی ۔ بالفعل بطور تنبیہ کے مختصر عرض کیا گیا اور بڑے تعجب کی بات ہے کہ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم کو اس سنت اللہ سے ہرگز انکار نہیں کہ مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مرتب ہوتی ہے اور پھر بلا وجہ و بغیر دلیل یہ بھی فرماتے جاتے ہیں کہ اس آیت سے یہ مطلب ثابت نہیں ہوتا مولانا اس آیت سے تو یہ مطلب بطور عبارت النص کے ثابت ہوتا ہے اگر چہ دوسری آیات سے بھی ثابت ہو اور نون ثقیلہ کا حال تو ناظرین منصفین کو معلوم ہو چکا کہ اس نے اثبات مدعا جناب سے بالکل دست برداری کر دی ہے اور وہ آیت کے پورے معنے کو ادھورا نہیں کر سکتا۔ پھر ہمیں کیا ضرورت واقع ہوئی ہے کہ کلام ابلغ البلغاء کو پورے معنے سے عاری کر کر ادھورے معنے پر محمول کریں قولہ یہ آیات منافی قطعیۃ الدلالت الح اقول آيت ليؤمنن به آپ کے مسلک کے بموجب عام ہے اور مفہوم ان آیات کا خاص ہے اور یہ امر گذر چکا کہ خاص مخصص عام کا ہوا کرتا ہے نہ برعکس جو عکس القضیہ ہوا جاتا ہے و مر تفصيله قوله یه حصر غیر مسلم ہے الح اقول خود آپ کا حصہ ہی معنے غلام میں جو صرف بمعنے کو دک صغیر کیا گیا ہے غیر مسلم ہے قاموس وغیرہ کو ملاحظہ فرمائیے اور منتہی الا رب میں بھی لکھا ہے غلام بالضم کودک و مردمیا نہ سال از لغات اضداد است یا از هنگام ولادت تا آمد جوانی ۔ پس اندریں صورت جو صراح وغیرہ سے نقل فرمایا گیا ہے جناب کو کچھ بھی مفید نہیں اور حضرت مرزا صاحب کو کچھ بھی مضر نہیں ہے قــولــه اول یہ کہ آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الخ - اقول - چند مرتبہ عرض ہو چکا کہ حضرت مرزا صاحب