آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 550

آریہ دھرم — Page 132

روحانی خزائن جلد ۔ ۱۰ ۱۳۲ ست بچن ۲۰ خدا نے بھی اُن کو وہ عزت دی کہ کروڑ ہا آدمی اعتقاد کے ساتھ اُن کے پاؤں پر گرے اور حیات روحانی اُن کو حاصل ہوئی سو ہمیشہ کی زندگی پانے کی یہی راہ ہے جس نے سوچنا ہو سوچ لے۔ آنانکہ گشت کوچۂ جاناں مقام شاں مثبت است بر جریدہ عالم دوام شاں ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق میرد کسیکه نیست مرامش مرام شاں اے مردہ دل مکوش بیٹے ہجو اہل دل جهل و قصور تست نفہمی کلام شاں قولہ۔ نانک جی کے سامنے کچھ اُن کا سمپر دائے و بہت سے ششی نہیں ہوئے تھے کیونکہ اودھوانوں میں یہ چال ہے کہ مرے پیچھے اُن کو سدھ بنا لیتے ہیں پنچات بہت سا مہاتمہ کر کے ایشور کے سمان مان لیتے ہیں۔ یعنی نانک جی کا کچھ پورا پورا تسلط نہیں ہوا تھا اور نہ سکھ ہی بنے تھے کیونکہ جاہلوں کا دستور ہے کہ مرنے کے بعد مردوں کو سادھ اور بھگت قرار دیدیتے ہیں۔ اقول پنڈت صاحب کا اِس تقریر سے یہ مطلب ہے کہ نانک در حقیقت کوئی اچھا آدمی نہیں تھا مرنے کے بعد خواہ نخواہ اُس کو بھگت بنایا گیا مگر در حقیقت دیانند کی یہ تمام باتیں ایک ہی کینہ کی وجہ سے ہیں یعنی یہ کہ باوا صاحب وید کو ایک فضول کتاب اور گمراہ کرنے والی کہانی کہتے تھے اور یہی جابجا نصیحت کرتے تھے اور اُن کی زندگی کے مقاصد میں سے اعلیٰ مقصد یہی تھا کہ وہ لوگوں کو وید سے چھڑا کر خدا تعالیٰ کے پاک کلام کے جو قرآن شریف ہے مصدق بناویں اور در حقیقت اُن کا وجود خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ایک عظیم الشان نمونہ تھا جس کی تمام مسلمانوں کو قدر کرنی چاہئے اُس خدا نے جو اپنے پاک نبی کے لئے پتھروں اور درختوں اور درندوں سے گواہی دلائی اس آخری زمانہ میں اُن کے لئے جو تاریکی میں بیٹھے تھے اُنہیں میں سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکالا اُس نے اُس نور کی گواہی دی جو دنیا کو روشن کرنے کے لئے آیا تھا۔ نور کو تاریکی شناخت نہ کر سکی آخر اس نے شناخت کیا جس کو نور میں سے حصہ دیا گیا تھا پاک ہے وہ خدا جس نے اسلام کے لئے یہ گواہیاں پیدا کیں اُس صادق انسان نے ویدوں کو گمراہی کی تعلیم کہہ کرنا اہل پنڈتوں سے گالیاں کھا ئیں اگر وہ ویدوں سے