آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 550

آریہ دھرم — Page 133

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۳ ست بچن بیزار نہ ہو جاتے تو کوئی بھی پنڈت اُن کو برا نہ کہتا۔ اب تو با وا صاحب ان پنڈتوں کی نظر میں کچھ ۲۱ بھی نہیں وید کے مکذب جو ہوئے ۔ قولہ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے ویدوں کو نہ سنا نہ دیکھا۔ کیا کریں جو سننے اور دیکھنے میں آویں تو بد ھمان لوگ جو کہ بیٹھی ڈرا گر ہی نہیں ہیں وے سب سمپر دائے والے ویدمت میں آ جاتے ہیں یعنی نانک وغیرہ اُس کے سکھوں نے نہ ویدوں کو سنا نہ دیکھا کیا کریں جو سننے یا دیکھنے میں آئیں تو جو عقلمند متعصب نہیں وہ فوراً اپنی ٹھگ بد یا چھوڑ کر وید کی ہدایت میں آجاتے ہیں۔ اقول اس تمام تقریر سے پنڈت صاحب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوانا تک صاحب اور اُن کے پیرو ٹھگ ہیں اُنہوں نے دنیا کے لئے دین کو بیچ دیا مگر ہر چند یہ تو سچ ہے کہ باوانا نک صاحب نے وید کو چھوڑ دیا اور اُس کو گمراہ کرنے والا طومار سمجھا لیکن پنڈت صاحب پر لازم تھا کہ یوں ہی باوا صاحب کے گرد نہ ہو جاتے اور ٹھگ اور مگار اُن کا نام نہ رکھتے بلکہ اُن کے وہ تمام عقیدے جو گرنتھ میں درج ہیں اور مخالف وید ہیں اپنی کتاب کے کسی صفحہ کے ایک کالم میں لکھ کر دوسرے کالم میں اُس کے مقابل پر وید کی تعلیمیں درج کرتے تا عقلمند خود مقابلہ کر کے دیکھ لیتے کہ ان دو تعلیموں سے سچی تعلیم کونسی معلوم ہوتی ہے ظاہر ہے کہ صرف گالیاں دینے سے کام نہیں نکلتا ہر یک حقیقت مقابلہ کے وقت معلوم ہوتی ہے اور ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔ قولہ نانک جی بڑے دھناڈھیہ اور رئیس بھی نہیں تھے پرنتو ان کے چیلوں نے نانک چند رو دے اور جنم ساتھی، آدی میں بڑے سدھ اور بڑے بڑے ایشوریہ والے تھے لکھا ہے۔ نانک جی برہما آدی سے ملے بڑی بات چیت کی سب نے ان کا مانیہ کیا۔ نانک جی کے دواہ میں بہت سے گھوڑے، رتھ، ہاتھی، سونے، چاندی، موتی، پنا آدی رتنوں سے جڑے ہوئے اور امولیہ رتنوں کا پارادار نہ تھا لکھا ہے بھلا یہ گھوڑے نہیں تو کیا ہیں؟ یعنی نانک جی کہیں کے مالدار اور رئیس نہیں تھے مگر اُن کے چیلوں نے پوتھی نانک چند رودے اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے دولتمند اور بھگت کر کے لکھا ہے