آریہ دھرم — Page 131
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۳۱ ست بچن یہ باوا صاحب کی بڑی کرامت ہے کہ اُس زمانہ میں اُنہوں نے ویدوں کی حقیقت معلوم 19 کر لی جبکہ وید ایسے گم تھے کہ گو یا نابود تھے لیکن دیانند ایسے زمانہ میں بھی نا بینا رہا جبکہ انگلستان اور جرمن وغیرہ میں ویدوں کے ترجمے ہو چکے تھے اور پھر دیا نند نے جو طعن کے طور پر لکھا یعنی یہ کہ اگر وید کے جاننے والے مر گئے تو کیا باوا نا نک ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گئے یہ بھی اس کی کمال نادانی تھی جو باوا صاحب کی باریک اور پر معرفت بات کو نہ سمجھ سکا۔ باوا صاحب کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ وید کے جاننے والے جسمانی موت سے مرے تا با وا صاحب کی موت کا ذکر کرنا اُس کو زیبا ہوتا اس بات کو کون نہیں جانتا کہ جسمانی موت ہر ایک کو در پیش ہے بلکہ با وا صاحب کا تو یہ مطلب تھا کہ وہ روحانی زندگی جو سچے مذہب کے پیرو ہونے کی حالت میں اور سچی کتاب کے ماننے کی صورت میں انسان کو ملتی ہے وہ زندگی وید کے ماننے والوں کو نہیں ملی اور سب کے سب گمراہی کی موت میں مر گئے اب بادا صاحب پر اُن کی موت کی وجہ سے اعتراض کرنا حماقت ہے کیونکہ بلاشبہ وہ پاک توحید اور پاک کلمہ کی برکت سے ہمیشہ کے لئے زندہ رہے بھلا انصافاً سوچو کہ با وا صاحب کو فوت ہونے پر قریباً چار سو برس گزر گئے اور اب تک اُن کا چولا جس پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ لکھا ہوا ہے جس کو وہ نہایت صدق اور اخلاص سے پہنتے تھے جس کا ہر ایک لفظ اُن کی دلی حالت کا ترجمان تھا اُن کی اولاد کے پاس موجود ہے پس یہ بھی ایک قسم زندگی کی ہے کہ خدا تعالیٰ نیک لوگوں کے کپڑوں کو بھی ضائع ہونے نہیں دیتا۔ دیکھو آریوں کا دیانند ابھی مرا ہے گویا کل فوت ہوا ہے کیا اُس کی ایک لنگوٹی بھی جو باہندا کرتا تھا آریوں کے پاس موجود ہے؟ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی خدا نے اُس کو ذلیل کیا اور باوانا تک صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر عزت کی نگاہ سے دیکھا کہ کلمہ طیبہ کا کپڑا اپنا چولا بنا لیا اس لئے نوٹ ۔ دیانند اس قول کے بعد بہت جلد مر گیا پس یہ بھی با واصاحب کی ایک کرامت ہے۔ منہ