آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 287

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۸۷ آئینہ کمالات اسلام ان ربك فعال لما يريد - انت معى و انا معک عسى ان يبعثک ربک ۲۸۷ مقاما محمودا یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کیلئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گواول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی ۔ اس جگہ ایک اور اعتراض نور افشاں کا رفع دفع کرنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ الہام خدائے تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اس پر اعتماد کلی تھا تو پھر پوشیدہ کیوں رکھا اور ! ☆ لئے تاکید کی اس کا ج اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہے کہ یہ ایک خانگی کیوں اپنے خط میں پوشیدہ رکھنے کے لئے تا معاملہ تھا اور جن کے لئے یہ نشان تھا ان کو تو پہنچا دیا گیا تھا اور یقین تھا کہ والد اس دختر کا ایسی اشاعت سے رنجیدہ ہوگا ۔ اس لئے ہم نے دل شکنی اور رنج دہی سے گریز کی بلکہ یہ بھی نہ چاہا کہ در حالت رد و انکار وہ بھی اس امر کو شائع کریں اور گو ہم شائع کرنے کے لئے مامور تھے مگر ہم نے مصلحتاً دوسرے وقت کی انتظار کی۔ یہاں تک کہ اس لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے شدت غیظ و غضب میں آ کر اس مضمون کو آپ ہی یہ الہام جو شر طی طور پر مکتوب الیہ کی موت فوت پر دلالت کرتا تھا ہم کو بالطبع اس کی اشاعت سے کراہت تھی بلکہ ہمارا دل یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس سے مکتوب الیہ کو مطلع کریں مگر اس کے کمال اصرار سے جو اس نے زبانی اور کئی انکساری خطوں کے بھیجنے سے ظاہر کیا۔ ہم نے سراسر سچی خیر خواہی اور نیک نیتی سے اس پر یہ امر سر بستہ ظاہر کر دیا پھر اس نے اور اس کے عزیز مرزا نظام الدین نے اس الہام کے مضمون کی آپ شہرت دی۔ منہ