آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 288
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۸۸ آئینہ کمالات اسلام ۲۸۸ شائع کر دیا اور شائع بھی ایسا کیا کہ شاید ایک یا دو ہفتہ تک دس ہزار مرد و عورت تک ہماری درخواست نکاح اور ہمارے مضمون الہام سے بخوبی اطلاع یاب ہو گئے ہوں گے۔ اور پھر زبانی اشاعت پر اکتفا نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے وہ خط جا بجا پڑھا گیا اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کے مضمون کی منادی کی گئی ۔ اب جب مرز انظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہمارا نور افشاں میں بھی چھپ گیا ۔ اور عیسائیوں نے اپنے مادہ کے موافق بے جا افترا کرنا شروع کیا تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنے قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں۔ بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کیلئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا اور نیز یہ پیشگوئی ایسی بھی نہیں کہ جو پہلے پہل اسی وقت میں ہم نے ظاہر کی ہے بلکہ مرزا امام الدین و نظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریہ اور نیز لکھر ام پیشاوری اور صد ہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اس کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنی یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونے والا ہے۔ اب منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ اس پیشگوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی اور اس میں تاریخ اور مدت ظاہر کی گئی اور اس میں تاریخ اور مدت کا کچھ ذکر نہ تھا اور اس میں شرائط کی تصریح کی گئی اور وہ ابھی اجمالی حالت میں تھی۔ سمجھ دار آدمی کیلئے یہ کافی ہے کہ پہلی پیشگوئی اس زمانہ کی ہے کہ جب کہ ہنوز وہ لڑکی نابالغ تھی اور جب کہ یہ پیشگوئی بھی اسی شخص کی نسبت ہے جس کی نسبت اب سے پانچ برس پہلے کی گئی تھی یعنی اس زمانہ میں جب کہ اس کی یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی تو اس پر نفسانی افترا کا گمان کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ والسلام علیٰ من اتبع الهدی ( خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب ) ۔ ار جولائی ۱۸۸۸ء