آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 286
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۸۶ آئینہ کمالات اسلام ۲۸۶ سے یہ صبہ نامہ لکھا گیا ۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضا مندی کے بیکار تھا اس لئے مکتوب الیہ نے بتمامتر عجز وانکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تا ہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرا یہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۸ میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔ + اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کا راسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔ اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گھرا ہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے۔ کذبوا بآياتنا و كانوا بها يستهزء ون فسيكفيكهم الله و يردّها اليك لا تبديل لكلمات الله تین سال تک فوت ہونا روز نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے بلکہ بعض مکاشفات کے رو سے مکتوب الیہ کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں نزد یک پایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم ۔ منہ + والد اس عورت کا نکاح سے چوتھے مہینے مطابق پیشگوئی فوت ہو گیا یعنے نکاح ے اپریل ۱۸۹۲ء کو ہوا۔ اور وہ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ء کو بمقام ہوشیار پور گزر گیا ۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۱۸۸۲ ہونا چاہیے۔ ملاحظہ ہو تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۱۱۶ حاشیہ (ناشر)