آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 118
روحانی خزائن جلد ۵ VII آئینہ کمالات اسلام حکم ہوا کہ آنحضرت صلعم کے ملازم خدمت رہیں پس اسرافیل ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت صلعم کے پاس رہتا تھا اور آنحضرت صلعم کی عمر کا گیارھواں سال پورا ہونے تک یہی حال تھا مگر اسرافیل بجز کلمہ دو کلمہ کے اور کوئی بات وحی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہیں ڈالتا تھا ایسا ہی میکائیل بھی آنحضرت کا قرین رہا۔ پھر بعد اس کے حضرت جبرائیل کو حکم ہوا اور وہ پورے اُنتیس سال قبل از وحی ہر وقت قرین اور مصاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پھر بعد اس کے وحی نبوت شروع ہوئی ۔ اس بیان سے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جن بزرگوں ۔ ہے کہ جن بزرگوں نے مثلاً حضرت جبرائیل کی نسبت لکھا ہے کہ وہ نبوت سے پہلے بھی انتیس سال تک ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی رفیق تھا اُن کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جبرائیل کسی وقت آسمان پر بھی چلا جاتا تھا اور مانا اس نے جب قرآن کا نزول تو اس وقت تو فرشتہ ہروقت اور ہر لفظ یہ بات ثابت ہو چکی ہے اور اکا براُمت میں سے کوئی اس سے منکر نہیں کہ وحی کا زمانہ تو وحی کا زمانہ ہے اس زمانہ سے پہلے بھی ملا ایک وحی ہر دم اور ہر وقت آنحضرت صلعم کے ساتھ ساتھ رہے ہیں چنانچہ حضرت جبرائیل انتیس سال تک برابر قبل از وحی قرآن هر دم قرین اور مصاحب تھے اور یہ بات بالکل خلاف قیاس ہے کہ جب وحی قرآن کا نزول نہیں تھا اس وقت تو فرشتہ جبرائیل ہر وقت اور ہر لحظہ حاضر اور قرین رہے اور جب وحی قرآن کا وقت آیا اور دوام قرب کی ضرورتیں بھی پیش آئیں تب جبرائیل اپنی پہلی عادت کو ترک کر دیئے اور تنہا چھوڑ کر آسمان پر چلا جانا اور پھر بسا اوقات کی مہینے منہ نہ دکھانا اختیار کر لیے۔ بقیه حاشيه تراشیدہ کے برخلاف کوئی امر ظہور میں آتا ہے تو ایک سخت پریشانی اور حیرت اُن کو لاحق ہو جاتی ہے اور گھبراہٹ کا ایک غل غپاڑہ اُن میں اٹھتا ہے ۔ یورپ کے ہیئت دان اور سائنس اور نجوم میں بڑی بڑی لافیں مارنے والے ہمیشہ کائنات الجو اور اُن کے نتائج کے بارہ میں پیشگوئیاں ایک بڑے دعوے کے ساتھ شائع کیا کرتے ہیں اور کبھی لوگوں کو قحط سالیوں سے ڈراتے اور طوفانوں اور آندھیوں کی پیش خبری سے دھڑ کے میں ڈالتے اور کبھی بروقت کی بارشوں اور ارزانی کی امیدیں دیتے ہیں مگر قدرت حق ہے کہ اکثر وہ ان خبروں میں جھوٹے نکلتے ہیں مگر بایں ہمہ پھر بھی لوگوں کے دماغوں کو ناحق پریشان کرتے رہتے ہیں یوں تو وہ اپنے فکروں کو دور تک پہنچا کر خدائے عز وجل کی خدائی میں ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں مگر حکمت از لی ہمیشہ اُن کو شرمندہ کرتی ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی فاش خطا ہمیشہ ثابت ہوتی رہتی ہے اُن کی نسبت کیونکر گمان کر سکتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے نظام اور سائنس کے ا