آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 119

روحانی خزائن جلده ۱۱۹ آئینہ کمالات اسلام کیونکہ کسی وقت چھوڑ کر چلا جانا دوام قرب اور معیت غیر منقطع کے منافی ہے لیکن جب ان ۱۱۹ بزرگوں کا دوسرا عقیدہ بھی دیکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا قرار گاہ آسمان ہی ہے اور وہ ہر ایک وحی آسمان سے ہی لاتا ہے تو ان دونوں عقیدوں کے ملانے سے جو تناقض پیدا ہوتا ہے اس سے رہائی پانے کے لئے بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں مل سکتی کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا آسمان سے اتر نا حقیقی طور پر نہیں بلکہ تمثلی ہے اور جب تمثلی طور پر اترنا ہوا تو اس میں کچھ حرج نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے تمثلی وجود سے ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر دم اور ہر طرفہ العین انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رہے کیونکہ وہ اپنے اصلی وجود کے ساتھ تو آسمان پر ہی ہے اور اسی مذہب کی تصدیق اور تصویب شیخ عبد الحق محدث دہلی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۵ میں کی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ نزول جبرائیل بارے میں اب تک دریافت کیا ہے وہ سب یقینی ہے ہمیں تو اُن کے اکثر معلومات کا ظنی مرتبہ ماننے میں بھی شرم آتی ہے کیونکہ اب تک اُن کے خیالات میں بے اصل اور بے ثبوت باتوں کا ذخیرہ بڑھا ہوا ہے ۔ اس وقت امام رازی رحمۃ اللہ کا یہ قول نہایت پیارا معلوم ہوتا ہے کہ من اراد ان يكتال مملكة البارى بمكيال العقل فقد ضل | ضلالاً بعيدًا ۔ یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے ملک کو اپنی عقل کے پیمانہ سے نا پنا چاہے تو وہ راستی اور صداقت اور سلامت روی سے دور جا پڑا ۔ بقیه حاشيه اب اس عاجز پر خداوند کریم نے جو کچھ کھولا اور ظاہر کیا وہ یہ ہے کہ اگر ہیئت دانوں اور طبعی والوں کے قواعد کسی قدر شہب ثاقبہ اور دمدار ستاروں کی نسبت قبول بھی کئے جائیں تب بھی جو کچھ قرآن کریم میں اللہ جل شانه و عزّ اسمه نے ان کائنات الجو کی روحانی اغراض کی نسبت بیان فرمایا ہے اُس میں اور ان ناقص العقل حکماء کے بیان میں کوئی مزاحمت اور جھگڑا نہیں کیونکہ ان لوگوں نے تو اپنا منصب صرف اس قدر وہ ہمیشہ آسمان پر اپنی قرارگاہ میں ثابت اور قائم رہتا ہے ہاں اُس کی تمثلی صورت بقدرت حق تعالی نمودار ہو جاتی ہے اور اس کی تبلیغ وحی کرتی ہے ۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ میں اس مذہب کی تصدیق اور تصویب کی ہے کہ جبرائیل وحی لے کر آسمان سے اپنے وجو د اصلی کے ساتھ اتر تا نہیں بلکہ