آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 117
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۱۷ آئینہ کمالات اسلام شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی نے بحوالہ کتاب الوفا و شہادة صاحب سفر السعادة وغیرہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلعم سے ملائک وحی جدا نہیں ہوتے تھے اور آنحضرت کے لئے جبرائیل علیہ السلام دائمی قرین تھا ۔ بالآخر ہم چند اقوال پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالح کا ہرگز یہ عقیدہ نہ تھا کہ روح القدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص وقتوں پر نازل ہوتا تھا اور دوسرے اوقات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے نعوذ باللہ بکلی محروم ہوتے تھے از انجملہ وہ قول ہے جو شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۲ میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ملائک وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دائمی رفیق اور قرین ہیں چنانچہ وہ جامع الاصول اور کتاب الوفا سے نقل کرتے ہیں کہ ابتدائے نبوت سے تین برس برابر حضرت اسرافیل ملازم صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رہے اور پھر حضرت جبرائیل دائمی رفاقت کے لئے آئے اور بعد اس کے صاحب سفر السعادت سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سات سال کے تھے جب حضرت اسرافیل کو اللہ جل شانہ کی طرف سے کوئی تاریخ مقرر نہیں کر سکتے مگر قیاسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حادثہ کی ابتدا جون کے سے ہوگی کیونکہ گو ہم اِس پرانے واقعہ کی تشخیص میں عیسہ شخیص میں عیسائیوں کے مختلف فیہ بیانات نات ناب سے کوئی عمدہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے مگر استنباط کے طور پر یہ پتہ ملتا ہے کہ حضرت مسیح جب یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوئے تب شدت گرمی کا مہینہ تھا کیونکہ گرفتاری کی حالت میں اُن کا سخت پیاسا ہونا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ موسم کا یہی تقاضا تھا کہ گرمی اور پیاس محسوس ہو۔ سو وہ مہینہ جون ہے کیونکہ اُس وقت ایک سخت آندھی بھی آئی تھی جس کے بقیه حـ مہینہ ساتھ اندھیرا ہو گیا تھا اور جون کے مہینہ میں اکثر آندھیاں بھی آتی ہیں ۔ اب اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ در حقیقت کائنات الجو بالخصوص شہب ثاقبہ اور دمدار ستاروں کے بارے میں کوئی قطعی اور یقینی طریق بصیرت ثاقبہ وغیرہ امور کی نسبت یورپ کی نئی تحقیقا تیں پوری مینار تک ہرگز نہیں پہنچیں اور شبہات سے پر ہیں ہیئت دانوں اور طبعی والوں کو اب تک ہاتھ میں نہیں آیا جب کبھی اُن کے قواعد ؟