آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 116
روحانی خزائن جلد ۵ ١١۶ آئینہ کمالات اسلام پھر وحی کا دریا زور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اٹھا دیا جاتا ہے گویا اُس کا کبھی وجود نہیں تھا۔ حضرت مسیح ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے تا اُس کا پھل کھائیں اور روح القدس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اس وقت انجیر پر کوئی پھل نہیں ۔ باایں ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذ و نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ پس جس حالت میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چپکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بُو آوے تو اس سے کیا نقصان ۔ بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تا لوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔ مسیح جس کی نسبت حال کے کم فہم مولوی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر وقت جبرائیل اس کے ساتھ رہتا تھا ان کی اجتہادی غلطیاں انجیل کی رو سے ثابت ہیں مگر ہمارے بیصلی اللہ علیہ ولی کے ہر ایک قول وفعل اور حرکت اور سکون میں خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے حال کے نادان مولوی مسیح کی نسبت دوام قرب روح القدس کا صرف ایک آیت کے لحاظ سے یقین رکھتے ہیں مگر اس آیت سے وضاحت اور تفصیل اور دلالت میں بڑھ کر ہمارے نبی صلعم کے حق میں یہ آیت ہے ۔ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إلا وحی یوحی کے افسوس کہ یہ آنکھوں کے اندھے اس صاف اور صریح آیت پر نظر نہیں ڈالتے۔ بقیه حاشیه سال رہتے ہیں اور آخر ٹوٹ کر شہاب بن جاتے ہیں ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب آفتاب برج اسد میں یا میزان میں ہو تو ان دونوں وقتوں میں کثرت شہب ثاقبہ کی توقع کی جاتی ہے اور اکثر ۳۳ سال کے بعد یہ دورہ ہوتا ہے لیکن یہ قاعدہ کلی نہیں بسا اوقات ان وقتوں سے پس و پیش بھی یہ حوادثات ظہور میں آجاتے ہیں چنانچہ ۱۸۷۲ء میں ستاروں کا گرنا با قراران ہیئت دانوں کے بالکل غیر مترقب امر تھا۔ اگر چہ ۱۴ نومبر ۱۸۳۳ء اور ۲۷ نومبر ۱۸۸۵ء کو کثرت سے یہ واقعہ ظہور میں آنا اُن کے قواعد مقررہ سے ملتا ہے لیکن تاریخ کے ٹولنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ نہایت فرق کے ساتھ اور ان تاریخوں سے بہت دور بھی وقوع میں آیا ہے چنانچہ دہم مارچ ۱۵۲۱ء اور ۱۹ / جنوری ۱۱۳۵ء اور ماہ مئی ۱۰ء میں جو کثرت شہب ثاقبہ وقوع میں آئے اُس میں اِن تمام ہیئت دانوں کو بجز سکتہ حیرت اور کوئی دم مارنے کی جگہ نہیں ۔ اور وہ شہب ثاقبہ جو حضرت مسیح کی گرفتاری کے بعد ظہور میں آئے اور پھر ایک دمدار ستارہ کی صورت میں ہو گئے ۔ اگر چہ اب ہم پوری صحت کے ساتھ اُس کی النجم : ۵۴