The Revealed Sermon

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 96

The Revealed Sermon — Page 38

38 KHUTBAH ILHAMIYYAH - خطبة العاميه وَأَضَلُّوا كَثِيْرًا مِّنَ الْجُهَّالِ. وَإِنَّ الْحَرْبَ حُرِّمَتْ اکثر مردم را از جاہلاں گمراه کرده اند و به تحقیق جنگ با مردم کفار جاہلوں میں سے بہتوں کو گمراہ کیا ہے اور یہ سچ بات ہے کہ کافروں کے ساتھ لڑنا عَلَيَّ، وَسَبَقَ لِي أَنْ أَضَعَ الْحَرْبَ وَلَا أَتَوَجَّهَ بر من حرام کرده اند و پیش از وجود من برائے من مقرر شده است که جنگ را ترک کنم و سوئے مجھ پر حرام کیا گیا ہے اور میرے وجود سے پہلے میرے لئے مقرر ہوا ہے کہ لڑائی کو ترک کروں اور إِلَى الْقِتَالِ. فَلَا جِهَادَ إِلَّا جِهَادَ اللِّسَانِ وَالْآيَاتِ کشت و خون متوجه نشوم ۔ پس هیچ جہاد بجز جہاد زبان و نشان خونریزی کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ پس کوئی جہاد سوائے زبانی جہاد کے اور نشان اور دلائل کے - وَالْإِسْتِدْلَالِ. وَكَذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أَمْلَأَ بُيُوتَ و دلائل باقی نمانده جہاد کے باقی نہیں رہا و خانہ ہائے مومناں را ہم چنیں مامورم کہ اور ایسا ہی مجھ کو یہ بھی حکم ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کو الْمُؤْمِنِينَ وَجُرُبَهُمْ مِنَ الْمَالِ، وَلَكِنْ لَا و کیسہ ہائے اوشان را بمال پر کنم اور ان کے توشہ دانوں کو مال سے بھر دوں مگر ن لیکن چاندی سونے and have misled many others from among the ignorant. It is true that I have been forbidden from fighting the disbelievers. It was ordained even before my existence that I would abolish warfare and would have no inclination towards bloodshed. Thus, there remains no jihad, except the jihad of the tongue, and the jihad of Signs and argumentation. Similarly, I have been commanded to fill the houses and pouches of the Muslims with wealth-