تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 427
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۷ سورة الناس إلا الْإِحْسَانُ (الرحمن : (۶۱) کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا بھی ہو سکتا ہے۔ ( روئیداد جلسه دعا ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۶۰۳، ۶۰۴) پہلے اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رَبِّ النَّاسِ فرمایا پھر مَلِكِ النَّاسِ۔ آخر میں الهِ النَّاسِ فرمایا جو اصلی مقصود اور مطلوب انسان ہے۔ اللہ کہتے ہیں معبود ، مقصود ، مطلوب کو ، لا إلهَ إِلَّا الله کے معنی یہی ہیں کہ لَا مَعْبُودَ لِي وَلَا مَقْصُودَ لِي وَلَا مَطْلُوبَ لِي إِلَّا اللهُ یہی سچی توحید ہے کہ ہر مدح و ستائش کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی کو ٹھہرایا جاوے۔ پھر فرمایا مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ یعنی وسوسہ ڈالنے والے خنّاس کے شر سے پناہ مانگو۔ خنّاس عربی میں سانپ کو کہتے ہیں جسے عبرانی میں نحاش کہتے ہیں اس لئے کہ اس نے پہلے بھی بدی کی تھی۔ یہاں ابلیس یا شیطان نہیں فرمایا تا کہ انسان کو اپنی ابتدا کی ابتلا یاد آوے کہ کس طرح شیطان نے اُن کے ابوین کو دھوکا دیا تھا اس وقت اس کا نام خناس ہی رکھا گیا تھا یہ ترتیب خدا نے اس لئے اختیار فرمائی ہے تا کہ انسان کو پہلے واقعات پر آگاہ کرے کہ جس طرح شیطان نے خدا کی اطاعت سے انسان کو فریب دے کر رو گرداں کیا ویسے ہی وہ کسی وقت ملکِ وقت کی اطاعت سے بھی عاصی اور روگرداں نہ کرادے۔ یوں انسان ہر وقت اپنے نفس کے ارادوں اور منصوبوں کی جانچ پڑتال کرتا رہے کہ مجھ میں ملک وقت کی اطاعت کس قدر ہے اور کوشش کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ر ہے کہ کسی مدخل سے شیطان اُس میں داخل نہ ہو جائے ۔ اب اس سورۃ میں جو اطاعت کا حکم ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی اطاعت کا حکم ہے کیونکہ اصلی اطاعت اُسی کی ہے مگر والدین مُرشد و ہادی اور بادشاہ وقت کی اطاعت کا حکم بھی خدا ہی نے دیا ہے اور اطاعت کا فائدہ یہ ہوگا کہ خناس کے قابو سے بچ جاؤ گے۔ پس پناہ مانگو کہ خناس کی وسوسہ اندازی کے شر سے محفوظ رہو کیونکہ مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں کاٹا جاتا۔ ایک بار جس راہ سے مصیبت آئے دوبارہ اُس میں نہ پھنسو۔ پس اس سورۃ میں صریح اشارہ ہے کہ بادشاہ وقت کی اطاعت کرو۔ خناس میں خواص اسی طرح ودیعت رکھے گئے ہیں جیسے خدا تعالیٰ نے درخت اور پانی اور آگ وغیرہ چیزوں اور عناصر میں خواص رکھے ہیں ۔ عنصر کا لفظ اصل میں حج سینٹر ہے۔ عربی میں ص اوراس کا بدل ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ چیز اسرار الہی میں سے ہے درد در حقیقت یہاں آکر انسان کی تحقیقات رک جاتی ہے۔ غرض ہر ایک چیز خدا ہی کی طرف سے ہے خواہ وہ بسا ئط کی قسم سے ہو خواہ مرکبات کی قسم سے۔ جبکہ یہ بات ہے کہ ایسے بادشاہوں کو بھیج کر اُس نے ہزار ہا مشکلات سے ہم کو چھڑایا اور ایسی تبدیلی بخشی کہ ایک آتشی تنور سے نکال کر ایسے باغ میں پہنچا دیا جہاں