تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 426

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۶ سورة الناس کو آسمانی مسیح اپنے ساتھ لائے گا۔ سورتیں قرآن شریف کی دجالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۹۶، ۲۹۷) اس میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مستحق حمد کے ساتھ عارضی مستحق حمد کا بھی اشارتاً ذکر فرمایا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہو۔ چنانچہ اس سورہ میں تین قسم کے حق بیان فرمائے ہیں۔ اوّل فرمایا کہ تم پناہ مانگو اللہ کے پاس جو جامع جمیع صفات کاملہ ہے۔ اور جو رب ہے لوگوں کا۔ اور ملک بھی ہے اور معبود و مطلوب حقیقی بھی ہے ۔ یہ سورہ اس قسم کی ہے کہ اس میں اصل توحید کو تو قائم رکھا ہے مگر معا یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ دوسرے لوگوں کے حقوق بھی ضائع نہ کریں جو ان اسماء کے مظہر کلی طور پر ہیں ۔ رب کے لفظ میں اشارہ ہے کہ گو حقیقی طور پر خدا ہی پرورش کرنے والا اور تکمیل تک پہنچانے والا ہے لیکن عارضی اور ظلی طور پر دو اور بھی - وجود ہیں جو ربوبیت کے مظہر ہیں ۔ ایک جسمانی طور پر دوسرا روحانی طور پر ۔ جسمانی طور پر والدین ہیں اور روحانی طور پر مرشد اور ہادی ہے۔ روئیداد جلسه دعا، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۶۰۲، ۶۰۳ ) خدا تعالیٰ نے تکمیل اخلاق فاضلہ کے لئے رَبِّ النَّاسِ کے لفظ میں والدین اور مرشد کی طرف ایما فرمایا ہے تا کہ اس مجازی اور مشہود سلسلہ شکرگزاری سے حقیقی رب و ہادی کی شکر گزاری میں قدم اُٹھائیں ۔ اسی راز کے حل کی یہ کلید ہے کہ اس سورہ شریفہ کو رب الناس سے شروع فرمایا ہے۔ الهِ النَّاسِ سے آغاز نہیں کیا۔ چونکہ مرشد روحانی خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق اس کی توفیق و ہدایت سے تربیت کرتا ہے اس لئے وہ بھی اسی میں شامل ہے پھر دوسرا ٹکڑا اس میں مَلِكِ النَّاسِ ہے یعنی تم پناہ مانگو خدا کے پاس جو تمہارا بادشاہ ہے۔ یہ ایک اور اشارہ ہے تا لوگوں کو متمدن دنیا کے اصول سے واقف کیا جاوے اور مہذب بنا یا جاوے۔ حقیقی طور پر تو اللہ تعالیٰ ہی بادشاہ ہے۔ مگر اس میں اشارہ ہے کہ ظلی طور پر بادشاہ ہوتے ہیں اور اسی لئے اس میں اشارہ ملک وقت کے حقوق کی نگہداشت کی طرف بھی ایما ہے۔ یہاں کافر اور مشرک اور موحد بادشاہ یعنی کسی قسم کی قید نہیں بلکہ عام طور پر ہے خواہ کسی مذہب کا بادشاہ ہو، مذہب اور اعتقاد کے حصے جدا ہیں ۔ قرآن میں جہاں جہاں خدا نے محسن کا ذکر فرمایا ہے وہاں کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہو اور موحد ہو اور فلاں سلسلہ کا ہو بلکہ عام طور پر حسن کی نسبت ذکر ہے ۔ خواہ وہ کوئی مذہب رکھتا ہو اور پھر خدا تعالیٰ اپنے کلام پاک میں محسن کے ساتھ احسان کرنے کی سخت تاکید فرماتا ہے جیسے آیت ذیل سے ہویدا ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ