تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 428
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۸ سورة الناس فرحت افزا پودے ہیں اور ہر طرف ندیاں جاری ہیں اور ٹھنڈی خوشگوار ہوائیں چل رہی ہیں پھر کس قدر ناشکری ہو گی اگر کوئی اس کے احسانات کو فراموش کر دے۔ روئیداد جلسه، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۶۱۸ ، ۶۱۹ ) جب انسان امانت سے بات نہیں کرتا تو اس وقت شیطان کا محکوم ہوتا ہے۔ گو یا خود وہی ہوتا ہے چنانچہ آیت مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اس کی شاہد ہے۔ ( تحفہ غزنویہ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۶۱ ) کہو کہ تم یوں دعا مانگا کرو کہ ہم وسوسہ انداز شیطان کے وسوسوں سے جولوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کو دین سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے کبھی بطور خود اور کبھی کسی انسان میں ہو کر خدا کی پناہ مانگتے ہیں وہ خدا جو انسانوں کا پرورندہ ہے انسانوں کا بادشاہ ہے انسانوں کا خدا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو اُس میں نہ ہمدردی انسانی رہے گی جو پرورش کی جڑ ہے اور نہ سچا انصاف رہے گا جو بادشاہت کی شرط ہے تب اُس زمانہ میں خدا ہی خدا ہو گا جو مصیبت زدوں کا مرجع ہوگا۔ یہ تمام کلمات آخری زمانہ کی طرف اشارات ہیں جبکہ امان اور امانت دنیا پر سے اُٹھ جائے گی ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۲۱، ۲۲۲) وہ جو انسانوں کا پروردگار اور انسانوں کا بادشاہ اور انسانوں کا خدا ہے میں وسوسہ انداز خناس کے وسوسوں سے اس کی پناہ مانگتا ہوں ۔ وہ خناس جو انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے جو جنوں اور آدمیوں میں سے ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اس خناس کی وسوسہ اندازی کا وہ زمانہ ہوگا کہ جب اسلام کے لئے نہ کوئی مربی اور عالم ربانی زمین پر موجود ہو گا اور نہ اسلام میں کوئی حامی دین بادشاہ ہو گا تب مسلمانوں کے لئے ہر ایک موقع پر خدا ہی پناہ ہو گا وہی خدا وہی مربی وہی بادشاہ وبس ۔ اب واضح ہو کہ خناس شیطان کے ناموں میں سے ایک نام ہے یعنی جب شیطان سانپ کی سیرت پر قدم مارتا ہے اور کھلے کھلے اکراہ اور جبر سے کام نہیں لیتا اور سراسر مکر اور فریب اور وسوسہ اندازی سے کام لیتا ہے اور اپنی نیش زنی کے لئے نہایت پوشیدہ راہ اختیار کرتا ہے تب اُس کو خنّاس کہتے ہیں عبرانی میں اس کا نام نحاش ہے۔ چنانچہ توریت کے ابتداء میں لکھا ہے کہ منحاش نے حوا کو بہکایا اور حوا نے اس کے بہکانے سے وہ پھل کھا یا جس کا کھانا منع کیا گیا تھا۔ تب آدم نے بھی کھایا۔ سو اس سورۃ الناس سے واضح ہوتا ہے کہ یہی نحاش آخری زمانہ میں پھر ظاہر ہوگا اسی نحاش کا دوسرا نام دجال ہے۔ یہی تھا جو آج سے چھ ہزار برس پہلے