تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 354
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له ولد سورة العصر وَرَسُولَهُ الْمُصْطَفى عَلَيْهِ صَلَوَاتُ الله افضل المخلوقات ہیں ( آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس کی وَسَلَامُهُ وَبَرَكَاتُهُ الْكُبْرَى، وَجَعَلَ سلامتی اور بڑی برکتیں نازل ہوں ) اور آپ کے بہترین سِلْسِلَةَ الْأَخْيَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ إِلَى مُدَّةٍ متبعین کے سلسلہ کو اس مدت تک لے گیا جو اس نصف هِيَ نِصْفُ النِّصْفِ الَّذِي أُعْطِيَ لِعِيسَى، مدت کا نصف ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دی گئی یعنی أَعْنِي الْقُرُوْنَ الثَّلَاثَةَ الَّتِي انْقَرَضَتْ إِلى تین صدیوں تک جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ثَلَاثِ مِائَةٍ مِنْ سَيِّدِنَا الْمُجْتَبى۔ فَكَانَ گزریں ۔ پس موسیٰ علیہ السلام کی امت کا زمانہ کامل اور عَهْدُ أُمَّةٍ مُوسَى يُضَاهِي نَهَارًا كَامِلا تمام دن کے مشابہ ہے اس کے سینکڑوں کی تعداد دن کی تَمَامًا، وَيُضَاهِيَ عَدَدُ مِئَاتِهِ عَدَدَ ساعات کی تعداد کے برابر ہے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی سَاعَاتِهِ، وَعَهْدُ أُمَّةِ عِيسَى يُضَاهِي نِصْفَ امت کا زمانہ حقیقہ اس دن کا نصف ہے۔ لیکن خیر الرسل النَّهَارِ فِي حَدِ ذَاتِهِ، وَأَمَّا عَهْدُ أَخْيَارِ أُمَّةِ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار امت کا زمانہ جو تین صدیوں خَيْرِ الرُّسُلِ الَّذِينَ كَانُوا إِلَى الْقُرُونِ تک تھے نصف دن کے نصف کے مشابہ ہے یعنی عصر الثَّلَاثَةِ فَهُوَ يُضَاهِي نِصْفَ نِصْفِ النَّهَارِ کے وقت تک جو اوسط دنوں کے وقت کا ایک تہائی بنتا أَعْنِي وَقْتَ الْعَصْرِ الَّذِي هُوَ ثُلُثُ سَاعَةٍ ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ کی تقدیر اور اس کی حکمت کے مِنَ الْأَيَّامِ الْمُتَوَشِطَةِ۔ ثُمَّ بَعْدَ ذَالِكَ مطابق تاریک رات آگئی جو ظلم اور جور سے بھری ہوئی لَيْلَةٌ لَيْلاءُ بِقَدْرٍ مِنَ اللهِ وَحِكْمَةٍ، وَهِيَ تھی اور وہ ایک ہزار سال تک چلتی چلی گئی ۔ پھر اس کے مَلُوعَةٌ مِنَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ إِلَى أَلْفِ سَنَةٍ۔ بعد اللہ تعالی کے فضل سے مسیح موعود کا سورج چڑھنا مقدر ثُمَّ بَعْدَ ذَالِكَ تَطْلُعُ شَمْسُ الْمَسِيحِ تھا۔ پس یہ معنی اس عصر کے ہیں جو قرآن مجید میں مذکور الْمَوْعُودِ مِنْ فَضْلِ الرَّحْمَنِ، فَهَذَا مَعْنَى ہے اور یہی وقت عصر کی حقیقت ہے جو ہم پر ظاہر ہوئی الْعَصْرِ الَّذِي جَاءَ فِي الْقُرْآنِ۔ هَذَا مَا ظَهَرَ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی قرب قیامت بالکل صحیح بات عَلَيْنَا مِنْ حَقِيقَةِ وَقْتِ الْعَصْرِ، وَلكِن ہے جو قرآن کریم سے ثابت ہے اور اہلِ عرفان مَّعَ ذَالِكَ قُرْبُ الْقِيَامَةِ حَقٌّ صَحِيحٌ ثَابِتٌ ( عارفوں) کے نزدیک قرآن مجید کی مختلف توجیہات ہو مِنَ الْفُرْقَانِ۔ وَلِلْقُرْآنِ وُجُوهٌ عِنْدَ أَهْلِ سکتی ہیں پس یہ بھی ایک توجیہ ہے جو ہم نے لکھی ہے اور الْعِرْفَانِ، فَهَذَا وَجْهٌ وَذَلِكَ وَجْهٌ وَكِلَاهُمَا وہ بھی ایک توجیہ ہے جو پہلوں نے لکھی ہے اور غور کرنے