تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 353
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۳ سورة العصر 3 وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَا نَعْلَمُ وَقْتَ حالات کا علم دیا ہے اور بعض کا نہیں دیا۔ پس نہ تو ہم السَّاعَةِ وَلَا مَلَكَ فِي السَّمَاءِ ، وَمَا نَعْلَمُ قیامت کے وقت کا علم رکھتے ہیں اور نہ کوئی آسمان میں حَقِيقَةَ السَّاعَةِ، وَنَعْلَمُ أَنَّهَا انْقِلاب فرشتہ اس کا علم رکھتا ہے اور ہم قیامت کی حقیقت کا علم نہیں عَظِيمٌ وَيَوْمُ الْجَزَاءِ، وَنُفَوِّضُ تَفَاصِيْلَهَا رکھتے ۔ ہاں ہمیں اتنا علم ہے کہ وہ ایک انقلاب عظیم اور إِلى عَلِيْمٍ يَعْلَمُ حَقِيقَةَ الْإِبْتِدَاءِ روز جزا ہوگا اور اس کی تفاصیل ہم خدائے علیم کے سپرد وَالْإِنْتِهَاءِ ثُمَّ نُعِيدُ الْكَلَامَ وَنَقُولُ إِنَّ کرتے ہیں جو ابتداء اور انتہاء کی حقیقت کو جانتا ہے ۔ اللهَ شَبَّهَ زَمَانَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پھر ہم بات کو دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الْعَصْرِ ، وَإِنْ شِئْتَ فَاقْرَأْ فِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو عصر کے وقت کے ساتھ الْقُرْآنِ سُورَةَ الْعَصْرِ ، وَكَذَالِكَ جَاءَ ذِكْرُ تشبیہ دی ہے اور اگر آپ چاہیں تو قرآن مجید میں سورۃ عصر الْعَصْرِ فِي الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ پڑھ لیں اور اسی طرح احادیث صحیحہ اور پختہ متواتر خبروں وَالْأَخْبَارِ الْمُوَثَّقَةِ الْمُتَوَاتِرَةِ، حَتَّى إِنَّهُ میں عصر کا ذکر آیا ہے یہاں تک کہ یہ ذکر بخاری ، مؤطا اور تُوجَدُ فِي الْبُخَارِي وَالْمُؤَظَا وَغَيْرِهَا مِن دیگر معتبر کتابوں میں پایا جاتا ہے اور اس تشبیہ میں یہ راز الْكُتُبِ الْمُعْتَبِرَةِ وَالسِّرُّ في هذا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کو قرونِ اولیٰ کے ہلاک التَّشْبِيْهِ أَنَّ اللهَ بَعَثَ مُوسَى بَعْدَ إِهْلَاكِ کرنے کے بعد مبعوث فرمایا اور انہیں نئی امت کا آدم الْقُرُونِ الْأُولى، وَجَعَلَهُ آدَمَ لِلْأُمَّةِ بنایا اور ان کی طرف عظیم الشان وحی کی اور ان کے دین کا الْجَدِيدَةِ وَأَوْحَى إِلَيْهِ مَا أَوْحَى، وَانْقَطَعَ سلسلہ تقریباً تیرہ سو سال بعد ختم ہو گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے سِلْسِلَةٌ دِينِهِ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ بَعْدَ الْأَلْفِ یوں ہی ارادہ اور فیصلہ کیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام وَنَيْفٍ وَكَذَالِكَ أَرَادَ اللهُ وَقَضَى۔ ثُمَّ کو مبعوث فرمایا تا وہ بنی اسرائیل کو تو رات کی اس تعلیم کو بَعَثَ عِيسَى لِيُذَكَّرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ مَا یاد دلائیں جسے وہ بھول چکے تھے اور انہیں اخلاق عظیمہ نَسُوهُ مِنَ التَّوْرَاةِ وَيُرَغِبَهُمْ فِي أَخْلَاقٍ پر قائم ہونے کی رغبت دلائیں۔ آپ کے دین کا سلسلہ ایک عُظمى، وَانْقَطَعَتْ سِلْسِلَةُ دِينِهِ إِلى مُدَّةٍ ایسے زمانہ تک پہنچ کر ختم ہو گیا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام هِيَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ مُدَّةِ سِلْسِلَةِ کے سلسلہ کے زمانہ کا نصف تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مُوسَى ثُمَّ بَعَثَ نَبِيَّةَ مُحَمَّدًا خَيْرَ الْوَرى نبی اور رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جو