تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 355
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۵ سورة العصر صَادِقَانِ عِنْدَ الْإِمْعَانِ، وَلَا يُنْكِرُهُ إِلَّا پر دونوں تو جیہات درست معلوم ہوتی ہیں اور اس کا جَاهِلٌ فَرِيرٌ أَوْ مُتَعَصِبُ أَسِيرٌ فِي حُجَبِ انکار جاہل، اندھے اور سرکشی کے پردوں میں اسیر الْعُدْوَانِ، لِأَنَّ الْمَعْنَى الَّذِي قَدَّمْنَاهُ فِي متعصب کے سوا کوئی نہیں کر سکتا لیکن بات یہ ہے کہ جو الْبَيَانِ يَحْصُلُ بِهِ التَّفَصِي مِنْ بَعْضِ معنے اپنے بیان میں ہم نے پہلے ذکر کئے ہیں ان سے الْإِشْكَالِ الَّتِي تَخْتَلِجُ فِي جَنَانِ بَعْضِ ان بعض اشکال سے نجات ملتی ہے جو عرفان کے پیاسے عَطَاشِي الْعِرْفَانِ مِنْ تَتَابِع وَسَاوِس دلوں میں شیطان کے بار بار کے وساوس سے پیدا الشَّيْطَانِ، ثُمَّ إِنَّ هَذَا الْمَعْنَى يُنْجِی ہوتے ہیں ۔ علاوہ ازیں یہ معنے بخاری اور مؤطا کی حَدِيثَ الْبُخَارِقِ وَالْمُؤَظَأَ مِنْ طَعْنِ حدیث کو معترضین کے اعتراض سے بچاتے ہیں اور اس الطَّعَانِ، وَمِنِ اعْتِرَاضِ مُعْتَرِضِ يَتَقَلَّدُ معترض کے اعتراض سے بھی بچاتے ہیں جو تنقید کی أَسْلِحَةً لِلطَّعْنَانِ وَتَقْرِيرُ الْإِعْتِرَاضِ أَنَّهُ خاطر ہر وقت اسلحہ لڑکائے پھرتا ہے۔ معترض کا اعتراض كَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ يُشَبَّهَ زَمَانُ الْإِسْلَامِ یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کے زمانہ کو عصر کے بِوَقْتِ الْعَصْرِ وَقَدْ سَاوَى زَمَانُ هذا وقت سے تشبیہ دی جائے جبکہ دینِ اسلام کا زمانہ موسیٰ الدِّينِ زَمَانَ مُوسَى، وَزَادَ عَلى زَمَانِ دِینِ علیہ السلام کے زمانہ کے برابر ہے اور عیسیٰ علیہ السلام عِيسَى، بَلْ جَاوَزَ ضِعْفُهُ إِلى هَذَا الْعَصْرِ کے دین کے زمانہ سے زیادہ ہے بلکہ اس عصر کے وقت فَمَا مَعْنَى الْعَصْرِ نِسْبَةً إِلَى الزَّمَانِ تک اس کے دگنے زمانہ سے بھی بڑھ گیا ہے۔ پس اس الْمَذْكُورِ : بَلْ لَّيْسَ هَذَا الْبَيَانُ إِلَّا كِذبًا زمانہ کی نسبت سے عصر کے بیان شدہ معنی کیسے درست فَاحِشًا وَمِنْ أَشْنَع أَنْوَاعِ الزُّورِ ، بَلْ ذَيْلُ ہوں گے بلکہ یہ بیان کھلا کھلا خلاف واقعہ اور جھوٹ کی الْإِعْتِرَاضِ أَطْوَلُ مِنْ هَذَا الْمَحْذُورِ فَإِنَّ قسموں میں سے بدترین ہے اور اعتراض کی لمبائی تو نَبَأَ نُزُولِ عِيسَى وَخُرُوجِ الدَّجَّالِ ممنوع حد سے بھی آگے بڑھ گئی ہے کیونکہ نزول عیسی ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ الَّذِي يَنْتَظِرُهُ كَثِيرٌ خروج دجال اور یا جوج و ماجوج کے نکلنے کی خبر جس مِنَ الْعَامَّةِ قَدْ ثَبَتَ كِذَّبُهُ بِهَذَا الْإِيرَادِ اکثر عوام الناس انتظار کر رہے ہیں۔ بالبداہت اس کا بِالْبَدَاهَةِ وَبِالضُّرُورَةِ، فَإِنَّ وَقْتَ الْعَصْرِ قَدْ جھوٹ اس ذکر سے ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ عصر کا وقت مَطَى بَلِ انْقَضَى ضِعْفَاهُ مِنْ غَيْرِ الشَّكِ | گزر چکا ہے بلکہ ملت موسویہ کے زمانہ کو دیکھتے ہوئے 2 کا