تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 315
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۵ سورة القدر وَالْإِسْتِقَامَةِ، كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى فِي إِلَى الْمَلَكَةِ إِنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا یعنی جب تیرا مَقَامٍ أَخَرَ إِذْ يُوحَى رَبُّكَ إِلَى الْمَلائِكَةِ آبي رب فرشتوں کو وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں پس مَعَكُمْ فَثَبِتُوا الَّذِينَ آمَنُوا أَي هَاتُوا تم مومنوں کو ثابت قدم بناؤ۔ یہاں فتبتوا سے مراد یہ ہے کہ قُلُوبَهُمْ وَحَبَّبُوا إِلَيْهِمُ الْإِيمَانَ فرشتوں کو کم تھا کہ مومنوں کے دلوں کو مضبوط بناؤ اور ان کے وَالثَّبَاتَ وَالْإِسْتِقَامَةَ، فَهَذَا فِعْلُ دلوں میں ایمان ، ثبات قدم اور استقامت محبوب بنا دو۔ یہ الْمَلَائِكَةِ إِذَا نَزَلُوا فَفِي سُورَةِ الْقَدْرِ کام فرشتوں کا ہے جب وہ نازل ہوتے ہیں۔ پس سورۃ القدر إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ وَعَدَ لِهَذِهِ میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت الْأُمَّةِ أَنَّهُ لَا يُضَيْعُهُمْ أَبَدًا، بَلْ إِذَا مَا کے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں کبھی ضائع نہیں ضَلُّوا وَسَقَطُوا فِي ظُلُمَاتٍ يَأْتِي عَلَيْهِمْ کرے گا بلکہ جب وہ گمراہ ہو جائیں گے اور اندھیروں میں لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَيَنْزِلُ الرُّوحُ إِلَى الْأَرْضِ گر جائیں گے تو ان پر لیلتہ القدر کا زمانہ آئے گا اور روح يَعْنِي يُلْقِيهِ اللهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِن زمین پر نازل ہوگا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے عِبَادِهِ وَيَبْعَثُهُ مُجَدِّدًا، وَيَنْزِلُ مَعَ جس پر چاہے گا اسے اتارے گا اور اسے مجدد بنا کر مبعوث الرُّوحِ مَلَائِكَةُ يَجْنِبُونَ قُلُوبَ النَّاسِ فرمائے گا اور روح کے ساتھ ملائکہ بھی نازل ہوں گے جو إِلَى الْحَقِّ وَالْهِدَايَةِ، فَلَا تَنْقَطِعُ هَذِهِ لوگوں کے دلوں کو حق اور ہدایت کی طرف کھینچ کر لائیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا ۔ ( ترجمہ از مرتب ) السِّلْسِلَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۳۲۰،۳۱۹) جب مامور مامور ہو کر آتا ہے تو بے شمار فرشتے اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور دلوں میں اس کی طرح نیک اور پاک خیالات کو پیدا کرتے ہیں (جیسے اس سے پہلے شیاطین برے خیالات پیدا کیا کرتے ہیں ) اور یہ سب مامور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اسی کے آنے سے یہ تحریکیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح فرمایا إِنَّا اَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ الآية خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہوتا ہے کہ مامور کے زمانہ میں ملائک نازل ہوں کیا یہ کام بغیر امداد الہی کہیں ہو سکتا ہے؟ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک شخص خود بخوداُٹھے اور صلیب کر ڈالے نہیں ۔ ہاں اگر خدا اسے اُٹھاوے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۶ ) ل الانفال : ١٣