تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 316

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۶ سورة القدر ایک لیلۃ القدر تو وہ ہے جو پچھلے حصہ رات میں ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالی تجلی فرماتا ہے اور ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دعا کرنے والا اور استغفار کرنے والا ہے جو میں اس کو قبول کروں لیکن ایک معنے اس کے اور ہیں جس سے بد قسمتی سے علماء مخالف اور منکر ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کو ایسی رات میں اتارا ہے کہ تاریک وتار تھی اور وہ ایک مستعد مصلح کی خواہاں تھی۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جبکہ اس نے فرمایا وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۷) پھر جب انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ تاریکی ہی میں پڑا رہے۔ ایسے زمانے میں بالطبع اس کی ذات جوش مارتی ہے کہ کوئی مصلح پیدا ہو۔ پس اِنَّا اَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ اس زمانہ ضرورت بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور دلیل ہے۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۴) ہم لیلۃ القدر کے دونوں معنوں کو مانتے ہیں ایک وہ جو عرف عام میں ہے کہ بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدا تعالیٰ ان میں دعائیں قبول کرتا ہے اور ایک اس سے مراد تاریکی کے زمانہ کی ہے جس میں عام ظلمت پھیل جاتی ہے۔ حقیقی دین کا نام و نشان نہیں رہتا۔ اس میں جو شخص خدا کے سچے متلاشی ہوتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ بڑے قابل قدر ہوتے ہیں ۔ ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بادشاہ ہو اور اس کا ایک بڑا لشکر ہو دشمن کے مقابلہ کے وقت سب لشکر بھاگ جاوے اور صرف ایک یا دو آدمی وفادار اس کے ساتھ رہ جاویں اور انہیں کے ذریعہ سے اسے فتح حاصل ہو تو اب دیکھ لو کہ ان ایک یا دو کی بادشاہ کی نظر میں کیا قدر ہوگی ۔ پس اس وقت جبکہ ہر طرف دہریت پھیلی ہوئی ہے کوئی تو قول سے اور کوئی عمل سے خدا کا انکار کر رہا ہے ایسے وقت میں جو خدا کا حقیقی پرستار ہو گا وہ بڑا قابل قدر ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی لیلتہ القدر کا زمانہ تھا۔ اس وقت کی تاریکی اور ظلمت کی بھی کوئی انتہا نہ تھی ۔ ایک طرف یہود گمراہ ۔ ایک طرف عیسائی گمراہ ادھر ہندوستان میں دیوتا پرستی ، آتش پرستی وغیرہ ۔ گویا سب دنیا میں بگاڑ پھیلا ہوا تھا۔ اس وقت بھی جبکہ ظلمت انتہاء تک پہنچ گئی تھی تو اس نے تقاضا کیا تھا کہ ایک نور آسمان سے نازل ہو سو وہ نور جو نازل ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات تھی قاعدہ کی بات ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچتی ہے تو وہ نور کو اپنی طرف کھینچتی ہے جیسے کہ جب چاند کی ۲۹ تاریخ ہو جاتی ہے اور رات بالکل اندھیری ہوتی ہے تو نئے چاند کے نکلنے کا وقت ہوتا ہے تو اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے لیلۃ القدر کے نام سے موسوم کیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّا اَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ اسی طرح جب نور اپنے