تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 298

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۸ سورة التين آدم کامل بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا خدا سے سچا اور پکا تعلق ہو۔ جب انسان ہر ایک حرکت اور سکون حکم الہی کے نیچے ہو کر کرتا ہے تو انسان خدا کا ہو جاتا ہے تب خدا انسان کا والی وارث ہو جاتا ہے اور پھر اس پر کوئی مخالفت سے دست اندازی نہیں کر سکتا لیکن وہ آدمی جو احکام الہی کی پرواہ نہیں کرتا خدا بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۵ ء صفحه ۴) جب ہم انسان کو مہذب دیکھتے ہیں تو کیوں اس کی جڑ تہذیب نہ بتائیں ۔ قرآن شریف سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیچھے وحشی بن گئے۔ میں کہتا ہوں کیا خدا تعالیٰ کو پہلا عمدہ نمونہ دکھانا چاہیے تھا یا خراب ۔اور اول الدن درد کا مصداق ۔ خدا نے برا بنایا تھا اور پھر گھس گھس کر خود عمدہ بن گیا۔ یہ خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور تو ہین ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۲) خدا نے چاہا ہے کہ انسان خدا کے اخلاق پر چلے ۔ جیسے وہ ہر ایک عیب اور بدی سے پاک ہے یہ بھی پاک ہو۔ جیسے اس میں عدل ، انصاف اور علم کی صفت ہے وہی اس میں ہو اس لئے اس خلق کو احسنِ تقویم کہا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ جو انسان خدائی اخلاق اختیار کرتے ہیں وہ اس آیت سے مراد ہیں اور اگر کفر کرے تو پھر اسفل السافلین اس کی جگہ ہے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ صفحہ ۴۹) انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی وقف نہ کرے اور اس کی مخلوق کے لئے نفع رساں نہ ہو تو یہ ایک بیکار اور نکمی ہستی ہو جاتی ہے۔ بھیڑ بکری بھی پھر اس سے اچھی ہے جو انسان کے کام تو آتی ہے لیکن یہ جب اشرف المخلوقات ہو کر اپنی نوع انسان کے کام نہیں آتا تو پھر بدترین مخلوق ہو جاتا ہے اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ میں گرایا جاتا ہے۔ پس یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان میں یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے اوامر کی اطاعت کرے اور مخلوق کو نفع پہنچاوے تو وہ جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے اور بدترین مخلوق ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۳ صفحه (۳) جب خدا تعالیٰ کسی ایسے دل کو دیکھتا ہے جس نے مخلوق کے لئے فائدہ رسانی کا مصمم ارادہ کر لیا ہے تو وہ اسے کبھی ضائع نہیں کرتا ۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ۔ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِینَ یہ بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مخلوق کو فائدہ رسانی کے بعد اور خدا تعالیٰ