تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 297
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۹۷ سورة التين بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة التين بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ شجرۂ فطرت انسانی اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے اور ہر یک افراط و تفریط سے جو قومی حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منزہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۹۴، ۱۹۵ حاشیه ) تَقْوِيمٍ - - یہ تو ظاہر ہے کہ عالم صغیر اور عالم کبیر میں نہایت شدید تشابہ ہے اور قرآن سے انسان کا عالم صغیر ہونا ثابت ہے اور آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ تقویم عالم کی متفرق خوبیوں اور حُسنوں کا ایک ایک حصہ انسان کو دے کر بوجہ جامعیت جميع شمائل و شیون عالم اس کو احسن ٹھہرایا گیا ہے۔ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۲، ۱۸۳ حاشیه در حاشیه ) عربی میں آدمی کو انسان کہتے ہیں یعنی جس میں دوانس ہیں ایک اُنس خدا کی اور ایک انس بنی نوع کی ۔ اور اسی طرح ہندی میں اس کا نام مانس ہے جو مانوس کا مخفف ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ انسان اپنے خدا سے طبعی اُنس رکھتا ہے اور مشر کا نہ غلطی بھی دراصل اسی سچے خدا کی تلاش کی وجہ سے ہے۔ نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۷)