تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 53

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ سورة الزمر يَعْنِي ذَالِكَ الْكِتَابُ كِتَابٌ یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین مُتَشَابِهُ يَشْبَهُ بَعْضُهُ بَعْضًا لَيْسَ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ان میں کوئی تناقض اور فِيْهِ تَنَاقُضُ وَلَا اخْتِلَافُ مَثْنِي فِيهِ اختلاف نہیں ۔ ہر ذکر اور وعظ اس میں دو ہرا دو ہرا کر بیان کی كُلُّ ذِكْرٍ لِيَكُونَ بَعْضُ الذِّكْرِ گئی ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے تَفْسِيرًا لِبَعْضِهِ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔ اس کے پڑھنے سے ان الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ يَعْنِي يَسْتَوْلِی لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے جَلَالُهُ وَهَيْبَتُهُ عَلَى قُلُوبِ الْعُشّاقِ کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت لِتَقْشَعِرُّ جُلُودُهُمْ مِنْ كَمَالِ الْخَشْيَةِ عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو جاتی ہے اس لئے کہ ان کی وَالْخَوْفِ يُجَاهِدُونَ فِي طَاعَةِ اللهِ لَيْلًا کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں وَنَهَارًا بِتَحْرِيكِ تَأْثِيرَاتٍ جَلَالِيَّةٍ وَ وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے تَنْبِيْهَاتٍ قَهْرِيَّةٍ مِّنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے يُبَدِّلُ اللهُ حَالَهُمْ مِنَ التَّالَمِ إِلَی ہیں پھر ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس التَّلَنُّةِ فَيَصِيرُ الطَّاعَةُ جُزْوَ حالت کو جو پہلے دکھ درد کی حالت ہوتی ہے لذت وسرور سے طَبِيعَتِهِمْ وَ خَاصَّةً فِطْرَتِهِمْ فَتَلِينُ بدل ڈالتا ہے ۔ چنانچہ اس وقت طاعت الہی ان کی جزء بدن جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ الله اور خاصہ فطرت ہو جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان يَعْنِي لِيَسِيلَ الذِكرُ فِي قُلُوم کے دلوں اور بدنوں پر رقت اور لینت طاری ہوتی ہے یعنی ذکر كَسَيَلَانِ الْمَاءِ وَيَصْدُرُ مِنْهُمْ كُلُّ ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہو جاتا ہے اور ہر أَمْرٍ في طَاعَةِ اللهِ بِكَمَالِ السُّهُولَةِ بات طاعت الہی کی ان لوگوں سے نہایت سہولت اور صفائی وَالصَّفَاءِ لَيْسَ فِيهِ ثِقُل وَلَا تَكَلَّف سے صادر ہوتی ہے نہ یہ کہ اس میں کوئی بوجھ ہو یا ان کے وَلَا ضَيْقَ فِي صُدُورِهِمْ بَلْ يَتَلَذَّذُونَ سینوں میں اس سے کوئی تنگی واقع ہو بلکہ وہ تو اپنے معبود کے