تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 52
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲ سورة الزمر ایسا ہی اس نے بموجب اصول اسلام کے پہلی پیدائش میں ایک انسان کی پہلی سے دوسرا انسان پیدا کر دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۴، ۲۲۵) ہم نے چار پائے ، گھوڑے، گدھے وغیرہ اُتارے۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ یہ سب آسمان سے ہی اُترے تھے۔ کیا کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ سب در حقیقت آسمان سے ہی اُترے ہیں ۔ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۵) لكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ وَعْدَ اللهِ لَا يُخْلِفُ اللهُ الْمِيعَادَ جس پیشگوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام اکرام کی نسبت پیشگوئی ہو وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی ۔ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ مگر کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْوَعِيدَ پس اس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی خوف اور دُعا اور صدقہ خیرات سے مل سکتی ہے۔ تمام پیغمبروں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ اور دُعا اور خوف اور دُعا اور خوف اور خشوع سے وہ بلا جو خدا کے علم میں ہے جو کسی شخص پر آئے گی وہ رد ہو سکتی ہے۔ ( تذکرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۴) اَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَابَهُ مُصْفَرًا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ ۔ ان آیات میں بھی مثال کے طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان کھیتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پورا کر لیتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۰) اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهَا مَّثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُم إِلى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ