تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 329

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۹ سورة القمر الْفَارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعُ مُنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ کیا تمہارے کا فر فرعونی گروہ سے کچھ بہتر ہیں یا تم خدا کی کتابوں میں معذب اور ماخوذ ہونے سے مستثنیٰ اور بری قرار دیئے گئے ہو۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی قومی جماعت ہے کہ جو زبردست اور فتح مند ہے۔ عنقریب یہ ساری جماعت پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگے گی۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۵ حاشیہ نمبر ۱۱) کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قومی جماعت ہیں جو جواب دینے پر قادر ہیں۔ عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائے گی اور پیٹھ پھیر لیں گے اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایک معمولی اور قدیمی سحر ہے۔ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) رودرو معتبر تفسیروں میں لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ تو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ پیشگوئی کس موقع کے متعلق ہے اور پھر جب بدر کی لڑائی میں فتح عظیم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اب معلوم ہوا کہ اس فتح عظیم کی یہ پیشگوئی خبر دیتی تھی ۔ رودرو ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۴۹) آپ نے کس حو صلے اور دلیری کے ساتھ مخالفوں کو مخاطب کر کے کہا کہ فَكِيدُ ونِي جَمِيعًا (هود : ۵۶ ) یعنی کوئی دقیقہ مکر کا باقی نہ رکھو۔ سارے فریب مکر استعمال کرو قتل کے منصوبے کرو۔ اخراج اور قید کی تدبیریں کرو، مگر یاد رکھو سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ آخری فتح میری ہے۔ تمہارے سارے منصوبے خاک میں مل جاویں گے۔ تمہاری ساری جماعتیں منتشر اور پراگندہ ہو جاویں گی اور پیٹھ دے نکلیں گی ۔ جیسے وہ عظیم الشان دعوى إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کسی نے نہیں کیا اور جیسے فَكِيدُونِي جَمِيعًا کہنے کو کسی کی ہمت نہ ہوئی ۔ یہ بھی کسی کے منہ سے نہ نکلا۔ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ یہ الفاظ اسی کے منہ سے نکلے جو خدا تعالیٰ کے سائے کے نیچے الوہیت کی چادر میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ساری پیشگوئیوں سے بھری ہوئی ہے ان پر اگر ایک دانشمند آدمی خدا سے خوف کھا کر غور کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ کس قدر غیب کی خبریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ہیں