تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 328
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( شق القمر کے متعلق فرمایا۔) ۳۲۸ سورة القمر ہماری رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ( بدر جلدے نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۵ ) کسوف و خسوف رمضان کی نسبت فرمایا۔ ) یہ ایک پرانا نشان چلا آتا تھا جو کہ اس وقت پورا ہوا ہے۔ براہین احمدیہ میں اس کا ذکر استعارہ کے طور پر اسی طرح ہے وَ إِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرُ مُسْتَمِر یہ میرا الہام بھی ہے اور بعض محدثین کا مذہب یہ بھی ہے کہ شق القمر بھی ایک قسم خسوف میں سے تھا اور شاہ عبدالعزیز بھی یہی کہتے ہیں اور ہمارا اپنا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں۔ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه (۲۶) جب دیکھیں گے کوئی نشان تو منہ پھیر لیں گے اور کہیں گے کہ یہ ایک مکر ہے۔۔۔۔ شق القمر کے معجزہ کے بیان میں اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا یہی کہا تھا کہ اس میں کیا انوکھی بات ہے۔ قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ کوئی خارق عادت امر نہیں۔ حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ نزول اسیح المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۰۷،۵۰۶) حِكْمَةُ بَالِغَةٌ قرآن ۔۔۔ انتہائی درجہ کی حکمت ہے۔ ( جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۷،۸۶) فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ انِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں مغلوب ہوں میری طرف سے مقابلہ کر۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۲ ، ۶۱۳ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ۔ بیشک ہم نے یاد کرنے کے لئے قرآن شریف کو آسان کر دیا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۹)