تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 330
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۰ سورة القمر کیا اس وقت جبکہ ساری قوم آپ کی مخالف تھی اور کوئی ہمدرد اور رفیق نہ تھا یہ کہنا کہ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ اللہ ہر چھوٹی بات ہو سکتی تھی ۔ اسباب کے لحاظ سے تو ایسا فتوی دیا جاتا تھا کہ ان کا خاتمہ ہو جاوے گا مگر آپ ایسی حالت میں اپنی کامیابی اور دشمنوں کی ذلت اور نامرادی کی پیشگوئیاں کر رہے اور آخر اسی طرح وقوع میں آتا ہے۔ لا الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۲) إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتِ وَنَهَرٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكِ مُّقْتَدِرٍ ۔ متقی لوگ جو خدائے تعالیٰ سے ڈر کر ہر یک قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہر میں ہیں صدق کی نشست گاہ میں با اقتدار بادشاہ کے پاس۔ اب ان آیات کی رو سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنی خدائے تعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ سو اگر رَافِعُكَ اِلَى (ال عمران : ۵۶ ) کے یہی معنے ہیں جو مسیح خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلا شبہ وہ جنت میں بھی داخل ہو گیا جیسا کہ دوسری آیت یعنی ارجعی إلى رَبِّكِ ( الفجر : ۲۹ ) جو رَافِعُكَ إِلَی کے ہم معنی ہے بصراحت اسی پر دلالت کر رہی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحَقَّ الْحَقِّ وَأَبْطَلَ الْبَاطِلَ وَنَصَرَ عَبْدَةً وَأَيَّدَ مَأْمُورَةً آیت وَ رَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( مریم : (۵۸) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۵) یہ امر ثابت ہے ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیمین تک پہنچائی جاتی ہیں ۔ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكِ مقْتَدِرٍ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۴) مسیح علیہ السلام کا دُنیا میں دوبارہ آنا کسی طرح موجب وجاہت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے عقیدے کے موافق اپنی حالت اور مرتبہ سے متنزل ہو کر آئیں گے ۔ اُمتی بن کے امام مہدی کی بیعت کریں گے۔