تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 306

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۶ سورة النجم کوئی آدمی کسی کو متقی کیوں کر یقین کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ اور فرماتا ہے هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَی اور فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہی عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ہے ۔ ہاں مامور من اللہ کے متقی ہونے اور نہ ہونے کے نشانات بین ہوتے ہیں نہ اوروں کے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۲۲ ، ۲۳ مورخه ۸ تا ۱۶ ارجون ۱۹۰۴ء صفحه ۲) کبھی یہ دعوی نہ کرو کہ میں پاک صاف ہوں جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فلا تروا انفسکم کہ تم اپنے آپ کو مز کی مت کہو وہ خود جانتا ہے کہ تم میں سے متقی کون ہے۔ وَ إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى (۳۸) البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ استمبر ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) خدا تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قرب حاصل کیا تو اس کی وجہ یہی تھی ۔ چنانچہ فرمایا ہے اِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی ابراہیم وہ ابراہیم جس نے وفاداری دکھائی ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو طیار نہ ہو جاوے۔ اور اس کی ذلت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو طیار نہ ہو۔ یہ صفت پیدا نہیں ہو سکتی ۔ بت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدم ہوتی ہے ۔ وہ بت ہے اور اس قدر بت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میں بت پرستی کر رہا ہوں ۔ پس جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت کی برداشت کرنے کے لئے طیار نہیں ہوتا ۔ صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کو جو یہ خطاب ملا۔ کیا یہ یونہی مل گیا تھا ؟ نہیں ۔ اِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی کی آواز اس وقت آئی جبکہ وہ بیٹے کی قربانی کے لئے طیار ہو گیا ۔ اللہ تعالیٰ عمل کو چاہتا ہے اور عمل ہی سے راضی ہوتا ہے۔ اور عمل دکھ سے آتا ہے ۔ لیکن جب انسان خدا کے لئے دکھ اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خد اتعالیٰ اس کو دکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔ دیکھو ۔ ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری طیاری کر لی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو بچالیا۔ وہ آگ میں -