تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 305

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۵ سورة النجم الْمَغْفِرَةِ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ اَنْشَاكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَ إِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهُتِكُمْ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى وَأَمَّا مَا قَالَ اللهُ تَعَالَى فَلَا تُزَكُوا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو یہ فرمایا ہے فلا انْفُسَكُمُ فَفَرِّقُ بَيْنَ تَزْكِيَةِ النَّفْسِ تُزَكُوا أَنْفُسَكُمُ تو اس آیت کا صحیح مطلب جاننے کے لئے وَإِظْهَارِ النِّعْمَةِ، وَإِنْ كَانَا مُشَابِدَيْنِ فِي تمہیں تزکیہ نفس اور اظہار نعمت کے درمیان واضح فرق معلوم الصُّورَةِ فَإِنَّكَ إِذَا عَزَوْتَ الْكَمَالَ إِلى ہونا چاہیے اگر چہ یہ دونوں صورت کے لحاظ سے مشابہ ہیں ۔ - نَفْسِكَ وَرَأَيْتَكَ كَأَنَّكَ شَيْءٌ وَنَسِيتَ پس جب کمال کو اپنے نفس کی طرف منسوب کرو اور تم سمجھو کہ الْخَالِقَ الَّذِي مَنَّ عَلَيْكَ فَهَذَا تَزْكِيَةٌ گو یا تم بھی کوئی حیثیت رکھتے ہو اور تم اپنے اس خالق کو بھول النَّفْسِ، وَلَكِنَّكَ إِذَا عَزَوْتَ كَمَالَكَ جاؤ جس نے تم پر احسان کیا تو تمہارا یہ فعل تزکیہ نفس قرار إِلَى رَبِّكَ، وَرَأَيْتَ كُلَّ نِعْمَةٍ مِنْهُ، وَمَا پائے گا لیکن اگر تم اپنے کمال کو اپنے رب کی طرف منسوب رَأَيْتَ نَفْسَكَ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْكَمَالِ بَلْ کرو اور تم یہ سمجھو کہ ہر نعمت اللہ کی عطا کردہ ہے اور اپنے کمال رَأَيْتَ فِي كُلِّ طَرَفٍ حَوْلَ اللهِ وَقُوَّتَهُ کو دیکھتے وقت تم اپنے نفس کو نہ دیکھو بلکہ تم ہر طرف اللہ تعالیٰ وَمَنَّهُ وَفَضْلَهُ وَوَجَدْتَ نَفْسَكَ کی قوت ، اس کی طاقت ، اس کا احسان اور اس کا فضل دیکھو كَمَيْتٍ فِي يَدِ الْغَسَّالِ، وَمَا أَضَفْتَ اور اپنے آپ کو غسال کے ہاتھ میں محض ایک مردہ کی طرح إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْكَمَالِ، فَهَذَا هُوَ پاؤ اور اپنے نفس کی طرف کوئی کمال منسوب نہ کرو تو یہ اظہار إِظْهَارُ النِّعْمَةِ۔ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۳۲۲،۳۲۱) نعمت ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ معصوم اور محفوظ ہونا تمہارا کام نہیں ہے خدا کا ہے ہر ایک نور اور طاقت آسمان سے ہی آتی ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۹) تزکیہ نفس ایک ایسی شئی ہے کہ وہ خود بخود نہیں ہو سکتا اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى کہ تم یہ خیال نہ کرو کہ ہم اپنے نفس یا عقل کے ذریعہ سے خود بخودمز کی بن جاویں گے۔ یہ بات غلط ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۸۲)