تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 307
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۷ سورة النجم تعالیٰ تکالیف سے بچا لیتا ہے ۔ ڈالے گئے لیکن آگ ان پر کوئی اثر نہ کرسکی۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا جب تک انسان صدق وصفا کے ساتھ خدا کا بندہ نہ ہوگا ۔ تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔ جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی وَ إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۰۳ ءصفحہ ۱ ) کیا۔ تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الہی سے بھرنا ، خدا کی مرضی کے موافق چلنا اور باتیں دُعا سے حاصل ہوتی ہیں ۔ جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو کوئی فرق نہ ہو۔ یہ سب البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۳۴) کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دکھایا۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لئے ابراہیم کی تعریف کی ہے جیسے کہ فرمایا ہے اِبْراهِيمَ الَّذِي وَفَّى البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخه ۸ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۵ ) تعلقات الہی ہمیشہ پاک بندوں سے ہوا کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے اِبْراهِيمَ الَّذِي وَفی لوگوں پر جو احسان کرے ہر گز نہ جتلاوے۔ جو ابراہیم کے صفات رکھتا ہے ابراہیم بن سکتا ہے۔ الحکم جلدی نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) نامرد، بز دل ، بیوفا جو خدا تعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملا وہ کس بناء پر ملا ؟ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے اِبْراهِيمَ الَّذِي وَفی ابراہیم وہ جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی آگ میں ڈالے گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کا فروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھا کروں کی پوجا کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے لیے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب و دانہ جنگل میں چھوڑ آ ۔ انہوں نے فی الفور اس کو قبول کر لیا ہر ایک ابتلا کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔ درمیان میں کوئی نفسانی غرض نہ تھی۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۲،۱) دُنیا میں بھی اگر ایک نوکر خدمت کرے اور حق وفا کا ادا کرے تو جو محبت اس سے ہوگی وہ دوسرے سے کیا ہو سکتی ہے۔ جو صرف اس بات پر ناز کرتا ہے کہ میں نے کوئی اُچک پنا نہیں کیا حالانکہ اگر کرتا تو سزا پاتا۔ اتنی بات سے حقوق قائم نہیں ہو سکتے حقوق تو صرف صدق و وفا سے قائم ہو سکتے ہیں جیسے ابراھیم