تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 300
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۰ سورة النجم ہے برخلاف حقیقت محمدیہ کے کہ وہ جمیع صفات الہیہ کا اتم و اکمل مظہر ہے جس کا ثبوت عقلی و نقلی طور پر کمال درجہ پر پہنچ گیا ہے سواسی وجہ سے تمثیلی بیان میں ظلی طور پر خدائے قادر وذ والجلال سے آنحضرت کو آسمانی کتابوں میں تشبیہ دی گئی ہے جو ابن کے لئے بجائے اب ہے۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کا اضافی طور پر ناقص ہونا اور قرآنی تعلیم کا سب الہامی تعلیموں سے اکمل واتم ہونا وہ بھی درحقیقت اسی بناء پر ہے کیونکہ ناقص پر ناقص فیضان ہوتا ہے اور اکمل پر اکمل ۔ اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خالی طور پر خداوند قادر و مطلق سے دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہی آیت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى یعنی وہ (حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کا ملہ قرب کی وجہ سے دوقوسوں میں بطور وتر کے واقعہ ہے بلکہ اس سے نزدیک تر ۔ اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے سو جب کہ نفس پاک محمدی اپنے شدت قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس نا پیدا کنار دریا میں جا پڑا اور الوہیت کے بحر اعظم میں ذرہ بشریت گم ہو گیا۔ اور یہ بڑھنا نہ مستحدث اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا اور ظلی اور مستعار طور پر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریریں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہر اویں۔ سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۶۴ تا ۲۷۵ حاشیه ) وَلَا رَيْبَ أَنَّ نَبِيَّنَا سُمِّيَ مُحَمَّدًا بلا شک ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا لِمَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَجْعَلَهُ مَحْبُوبًا فِي أَعْيُنِه گیا تا کہ آپ کو ( اللہ تعالیٰ اپنی نظر میں ) اور لوگوں کی نظر میں وَأَعْيُنِ الصَّالِحِيْنَ وَكَذَالِكَ سَماء محبوب ٹھہرائے۔ اور اسی طرح آپ کا نام احمد رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ أَحْمَدَ لِمَا أَرَادَ سُبْحَانَهُ أَنْ يَجْعَلَهُ مُحِب نے ارادہ فرمایا تھا کہ آپ کو اپنی ذات اور مومن اور مسلمان ذَاتِهِ وَيُحِبُّ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْلِمِينَ لوگوں کا مُحبّ قرار دے۔ پس آپ کی دوشانیں ہیں ایک شان فَهُوَ مُحَمَّدٌ بِشَأْنٍ وَأَحْمَدُ بِشَأْنِ کے لحاظ سے آپ محمد ہیں اور دوسری شان کے لحاظ سے آپ وَاخْتَصَّ أَحَدُ هُذَيْنِ الإِسْمَيْنِ بِزَمَانِ احمد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ایک نام کو ایک زمانہ سے وَالْآخَرُ بِزَمَانٍ وَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ اور دوسرے نام کو دوسرے زمانہ سے خاص کر دیا۔ اسی کی سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ دَنَا فَتَدَلَّى وَ فِي قَابَ طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے قول دَنَا فَتَدَلی اور قَابَ قَوْسَيْنِ