تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 301
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۱ سورة النجم قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی ۔ او ادنی میں اشارہ کیا ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) اعجاز ا مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۰۹،۱۰۸) سید الانبیاء و خیر الوریٰ مولانا وسید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم الشان روحانی حسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت کریمہ کافی ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی یعنی وہ نبی جناب الہی سے بہت نزدیک چلا گیا ۔ اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوں کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا۔ اور دونوں قسم کا حُسن روحانی ظاہر کیا۔ اور دونوں قوسوں میں وتر کی طرح ہو گیا ۔ یعنی دونوں قوسوں میں جو ایک درمیانی خط کی طرح ہو اور اس طرح اس کا وجود خالق مخلوق قوس قوس واقع ہوا جیسے یہ درمیانی خط آنحضرت ۔ اس حُسن کو نا پاک طبع اور اندھے لوگوں نے نہ دیکھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف : ۱۹۹) یعنی تیری طرف وہ دیکھتے ہیں مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ آخر وہ سب اندھے ہلاک ہو گئے۔ ( براہین احمد یہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۲۲۱،۲۲۰) م، یادر ہے کہ تدلی کا ثلاثی مجرد دلو ہے اور دلو کہتے ہیں ڈول کو کنوئیں کے اندر ڈبونا تا پانی اس میں بھر جائے اور دوسرے معنے دلو کے یہ ہیں کہ کسی کو اپنا شفیع پکڑنا پس تدلی کے معنی ہیں کہ شفاعت کے لئے دور افتادہ لوگوں کی طرف بکمال ہمدردی و غم خواری توجہ کرنا اور ان سے بہت نزدیک ہو کر ان کا مکدر ریویو آف ریلیجز جلد ا نمبر ۵ صفحه (۱۸۴) پانی اُٹھانا اور پاک پانی ان کو عطا کرنا۔ مقام شفاعت کی طرف قرآن شریف میں اشارہ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان کامل ہونے کی شان میں فرمایا ہے دَنَا فَتَدَلَّى - فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی یعنی یہ رسول خدا کی طرف چڑھا اور جہاں تک امکان میں ہے خدا سے نزدیک ہوا اور قرب کے تمام کمالات کو طے کیا اور لاہوتی مقام سے پورا حصہ لیا اور پھر ناسوت کی طرف کامل رجوع کیا یعنی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے پاک لوازم یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور محبت سے جو ناسوتی کمال کہلاتا ہے پورا حصہ لیا لہذا ایک طرف خدا کی محبت میں اور دوسری طرف بنی نوع کی محبت میں کمال تام تک پہنچا۔ پس چونکہ وہ کامل طور پر خدا سے