تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 299

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۹ سورة النجم بھی شریک ہیں اور نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے کہ جو صاحب وتر کو بہ نسبت جميع دوسرے کمالات کے اعلیٰ و ارفع واخص و ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں ہاں اتباع و پیروی سے ظلی طور پر شریک ہو سکتا ہے ۔ اب جاننا چاہئے کہ دراصل اسی نقطہ وسطی کا نام حقیقت محمد یہ ہے جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا منبع واصل ہے اور در حقیقت اسی ایک نقطہ سے خط وتر انبساط وامتداد پذیر ہوا ہے اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط وتر میں ایک ہویت ساریہ ہے جس کا فیض اقدس اس سارے خط کو تعین بخش ہو گیا ہے۔ عالم جس کو متصوفین اسماء اللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا اوّل واعلیٰ مظہر جس سے وہ علی وجہ التفصیل صدور پذیر ہوا ہے۔ یہی نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات اہل اللہ میں نفسی نقطہ احد مجتبی ومحمد مصطفی نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اول کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس نقطہ کو دوسرے وتری نقاط کی طرف وہی نسبت ہے جو اسم اعظم کو دوسرے اسماء الہیہ کی طرف نسبت واقع ہے۔ غرض سر چشمہ رموز غیبی و مفتاح کنوز لا ریبی اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام اسرار مبدء و معاد کی علت غائی اور ہر یک زیر و بالا کی پیدائش کی لمیت یہی ہے جس کے تصور بالکنہ اور تصور بکنہ سے تمام عقول و افہام بشریہ عاجز ہیں اور جس طرح ہر یک حیات خدائے تعالیٰ کی حیات سے مستفاض اور ہر یک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہر یک تعین اس کے تعین سے خلعت پوش ہے ایسا ہی نقطہ محمد یہ جمیع مراتب اکوان اور خطائر امکان میں باذنہ تعالیٰ حسب استعدادات مختلفہ وطبائع متفاوتہ مؤثر ہے اور چونکہ یہ نقطہ جمیع مراتب الہیہ کا ظلی طور پر اور جمیع مراتب کونیہ کا منجی و اصلی طور پر جامع بلکہ انہیں دونوں کا مجموعہ ہے اس لئے یہ ہر ایک مرتبہ کو نیہ پر جو عقول و نفوس کلیه و جزئیه و مراتب طبعیه الی آخر تنزلات وجود سے مراد ہے اجمالی طور پر احاطہ رکھتا ہے۔ ایسا ہی ظل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنے اصل سے ہوتی ہے۔ اور امہات صفات الہیہ یعنی حیوہ علم ، ارادہ قدرت سمع ، بصر کلام معہ اپنے جمیع فروع کے اتم و اکمل طور پر اس میں انعکاس پذیر ہیں ۔ اس نقطہ مرکز کو جو برزخ بین الله و بین اخلق ہے یعنی نفسی نقطہ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مجر دکلمۃ اللہ کے مفہوم تک محدود نہیں کر سکتے جیسا کہ مسیح کو اس نام سے محدود کیا گیا ہے کیونکہ یہ نقطہ محمد یہ خالی طور پر ستجمع جميع مراتب الوہیت ہے اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں حضرت مسیح کو ابن سے تشبیہ دی گئی ہے بباعث اس نقصان کے جوان میں باقی رہ گیا ہے کیونکہ حقیقت عیسو یہ مظہر اتم صفات الوہیت نہیں ہے بلکہ اس کی شاخوں سے ایک شاخ