تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 298
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۸ سورة النجم چونکہ اس کا رو بخلق ہونا چشمہ صافیہ خلق با خلاق اللہ سے ہے اس لئے اس کی توجہ بمخلوق توجہ بخالق کے عین ہے یا یوں سمجھو کہ چونکہ مالک حقیقی اپنی غایت شفقت علی العباد کی وجہ سے اس قدر بندوں کی طرف رجوع رکھتا ہے کہ گویا وہ بندوں کے پاس ہی خیمہ زن ہے۔ پس جبکہ سالک سیر الی اللہ کرتا کرتا اپنی کمال سیر کو پہنچ گیا تو جہاں خدا تھا وہیں اس کو لوٹ کر آنا پڑا۔ پس اس وجہ سے کمال دنو یعنی قرب تام اس کی تدلی یعنی ہبوط کا موجب ہو گیا۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۸۵ تا ۵۹۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) پھر نزدیک ہوا ( یعنی اللہ تعالیٰ سے ) پھر نیچے کی طرف اُترا ( یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا ) پس اسی جہت سے کہ وہ اوپر کی طرف صعود کر کے انتہائی درجہ قرب تام کو پہنچا اور اس میں اور حق میں کوئی حجاب نہ رہا اور پھر نیچے کی طرف اس نے نزول کیا اور اس میں اور خلق میں کوئی حجاب نہ رہا یعنی چونکہ وہ اپنے صعود اور نزول میں اتم و اکمل ہوا اور کمالات انتہا ئیہ تک پہنچ گیا اس لئے دوقوسوں کے بیچ میں یعنی وتر کی جگہ میں جو قطر دائرہ ہے اتم و اکمل طور پر اس کا مقام ہوا بلکہ وہ قوس الوہیت اور قوس عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ تر جو خیال و گمان و قیاس میں نہیں آسکتا نزدیک ہوا مثلاً صورت اُن دوقوسوں کی یہ ہے ۔ قوس اعلیٰ وجود قدیم رقوس اسفل وجود حادث و ممکن اس شکل میں جو خط مرکز دائرہ کو قطع کرتا ہے یعنی جو قطر دائرہ ہے وہی قاب قوسین یعنی دونوں قوسوں کا وتر ہے۔ جاننا چاہئے کہ دونوں قسم وجود واجب اور ممکن کے ایک ایسے دائرہ کی طرح ہیں کہ جو خط گذرندہ بر مرکز سے دو قوسوں پر منقسم ہو۔ وہی خط جو قطر دائرہ ہے جس کو قرآن شریف میں قاب قوسین سے تعبیر کیا ہے اور عام بول چال علم ہندسہ میں اس کو وتر قوسین کہتے ہیں وہ ذات مفیض اور مستفیض میں بطور برزخ واقع ہے کہ جو اپنے اخص کمال میں جو انتہائی درجہ کمالات کا ہے نقطہ مرکز دائرہ سے جو وتر قوس کا درمیانی نقطہ ہے مشابہت رکھتا ہے۔ یہی نقطہ تمام کمالات انسانِ کامل کا دل ہے جو قوس الوہیت و عبودیت کی طرف بخطوط مساویہ نسبت رکھتا ہے اور یہی نقطہ ارفع نقاط ان خطوط عمودیہ کا ہے جو محیط سے قطر دائرہ تک کھینچے جائیں ۔ اگر چہ وتر قوسین اور بہت سے ایسے نقاط سے تالیف یافتہ ہے جو در حقیقت کمالات روحانیہ صاحب وتر کے صور محسوسہ ہیں لیکن بجز ایک نقطہ مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں ان میں دوسرے انبیاء ورسل وارباب صدق وصفا