تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 297

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۷ سورة النجم دنو کی کمالیت اس میں ہے کہ اسماء اور صفات الہی کے عکوس کا سالک کے قلب میں ظہور ہو۔ اور محبوب حقیقی بے شائبہ خلیت اور بے تو اہم حالیت و محلیت اپنے تمام صفات کاملہ کے ساتھ اس میں ظہور فرمائے اور یہی استخلاف کی حقیقت اور روح اللہ کی نفخ کی ماہیت ہے اور یہی تخلق باخلاق اللہ کی اصل بنیاد ہے۔ اور جبکہ تدائی کی حقیقت کو تخلق با خلاق اللہ لازم ہوا اور کمالیت فی التخلق اس بات کو چاہتی ہے کہ شفقت علی العباد اور ان کے لئے بمقام نصیحت کھڑے ہونا اور ان کی بھلائی کے لئے بدل و جان مصروف ہو جانا اس حد تک پہنچ جائے جس پر زیادت متصور نہیں اس لئے واصل تام کو مجمع الاضداد ہونا پڑا کہ وہ کامل طور پر رو بخدا بھی ہوا اور پھر کامل طور پر رو بخلق بھی پس وہ ان دونوں قوسوں الوہیت و انسانیت میں ایک وتر کی طرح واقعہ ہے جو دونوں سے تعلق کامل رکھتا ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ وصول کامل کے لئے دنو اور تدلّی دونوں لازم ہیں دنو اس قرب تام کا نام ہے کہ جب کامل تزکیہ کے ذریعہ سے انسان کامل سیرالی اللہ سے سیر فی اللہ کے ساتھ متحقق ہو جائے اور اپنی ہستی ناچیز سے بالکل ناپدید ہو کر اور غرق دریائے بیچون و بیچکون ہو کر ایک جدید ہستی پیدا کرے جس میں بیگانگی اور دوئی اور جہل اور نادانی نہیں ہے اور صبغتہ اللہ کے پاک رنگ سے کامل رنگینی میسر ہے اور تدلّی انسان کی اس حالت کا نام ہے کہ جب وہ تخلق باخلاق اللہ کے بعد ربانی شفقتوں اور رحمتوں سے رنگین ہو کر خدا کے بندوں کی طرف اصلاح اور فائدہ رسانی کے لئے رجوع کرے۔ پس جاننا چاہیئے کہ اس جگہ ایک ہی دل میں ایک ہی حالت اور نیت کے ساتھ دو قسم کا رجوع پایا گیا۔ ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجود قدیم ہے اور ایک اس کے بندوں کی طرف جو وجود محدث ہے۔ اور دونوں قسم کا وجود یعنی قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلیٰ وجوب اور طرف اسفل امکان ہے۔ اب اس دائرہ کے درمیان میں انسان کامل بوجہ دنو اور تدلّی کی دونوں طرف سے اتصال محکم کر کے یوں مثالی طور پر صورت پیدا کر لیتا ہے۔ جیسے ایک وتر دائرہ کے دوقوسوں میں ہوتا ہے یعنی حق اور خلق میں واسطہ واسطہ ٹھہر ٹھہر جاتا جاتا ہے پہلے اس کو دنو اور قرب الہی کی خلعت خاص عطا کی جاتی ہے اور قرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے اور پھر خلقت کی طرف اس کو لایا جاتا ہے۔ پس اس کا وہ صعود اور نزول دوقوس کی صورت میں ظاہر ہوجاتا ہے اور نفس جامع التعلقين انسان کامل کا ان دونوں قوسوں میں قاب قوسین کی طرح ہوتا ہے اور قاب عرب کے محاورہ میں کمان کے چلہ پر اطلاق پاتا ہے۔ پس آیت کے بطور تحت اللفظ یہ معنے ہوئے کہ نزدیک ہوا یعنی خدا سے ، پھر اترا یعنی خلقت پر پس اپنے اس صعود اور نزول کی وجہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی وتر ہو گیا۔ اور