تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 293

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۳ سورة النجم لِاسْتِخْرَاجِ أَصْلِ حَقِيقَةِ الَّذِي هُوَ دَائِرُ اس اصل حقیقت کا استخراج اس سے ہوتا ہے جو دو بَيْنَ اللَّسَانَيْنِ، وَفِيهِ نُكْتَةٌ تُسُرُّ زبانوں میں دائر ہے اور اس میں ایک نکتہ ہے جو محققین کو الْمُحَقِّقِينَ خوش کرتا ہے۔ وَأَمَّا لَفْظُ ذِي مِرَّةٍ بَمَعْنَى الْعَقْلِ لیکن لفظ ذی مرۃ جو بمعنے عقل کے آتا ہے اگر تصحیح فَإِنْ كُنْتَ تَطْلُبُ مِنَّا نَظِيرَةً مَعَ نقل کے لئے اس کی نظیر معلوم کرنا ہو پس جاننا چاہیے تَصْحِيحِ النَّقْلِ، فَاعْلَمْ أَنَّ صَاحِبَ تَاج که صاحب تاج العروس نے جو شارح قاموس ہے لفظ الْعُرُوسِ شَارِحَ الْقَامُوسِ فَسَّرَ لَفْظَ ذی مرہ کو بمعنے ذی عقل تفسیر کیا ہے اور تمثیل کے طور ذِي مِرَّةٍ تَمَعْنَى ذِي النَّهَاءِ ، وَقَالَ يُقَالُ کہا ہے کہ عرب کے لوگ کہتے ہیں کہ انه لذو مرة اور إِنَّهُ لَنُوْ مِرَّةٍ أَي عَقْلٍ فِي مَثَلِ الْعَرَبِ مراد اس سے انه لذو عقل رکھتے ہیں اور اگر تیرے الْعَرَباءِ وَإِن لَّمْ يَكْفِكَ هُذَا الْمَثَلُ مَعَ أَنَّهُ هُوَ الْأَصْلِ، وَتَطْلُبُ مِنَّا نَظِيرًا أَخَرَ لئے یہ مثال کافی نہ ہو حالانکہ وہ کافی ہے اور تو ایام مِنَ الْأَيَّامِ الْجَاهِلِيَّةِ وَالْأَزْمِنَةِ جاہلیت کا کوئی شعر اس کی تائید میں طلب کرے تو یہ الْمَاضِيَّةِ، فَاقْرَأُ هَذَا الْبَيْتَ مِنْ صَاحِبِ بیت غور سے پڑھ جو سبعہ معلقہ میں سے چوتھے قصیدہ کا الْقَصِيدَةِ الرَّابِعَةِ مِنَ السَّبْعِ الْمُعَلَّقَةِ شعر ہے جس کا مؤلف ادباء زمان اور فصحاء اقران میں وَكَانَ مِنْ نُبَغَاءِ الزَّمَانِ وَفِي الْبَلاغَةِ سے تھا اور ڈیڑھ سو برس کی عمر تک پہنچا تھا۔ إمَامَ الْأَقْرَانِ، وَزَادَ عُمُرُهُ عَلَى مِئَةٍ رَجَعَا بِأَمْرِ هِمَا إِلَى ذِي مِرَّةٍ وَخَمْسِينَ، وَهُوَ هُذَا حَصِدٍ وَنُجْحُ صَرِيمَةٍ إِبْرَامُهَا رَجَعَا بِأَمْرِ هِمَا إِلَى ذِي مِرَّةٍ وہ دونوں ذی مرہ کی طرف یعنی ذی عقل کی طرف حَصِدٍ وَنُجْحُ صَرِيمَةٍ إِبْرَامُهَا متوجہ ہوئے اور قصد کو پختہ کرنے سے مقاصد حاصل ہو وَاعْلَمْ أَنَّ هَذِهِ الْقَصَائِدَ مَعْرُوفَةٌ جایا کرتے ہیں۔ بِغَايَةِ الإِشْتِهَارِ كَالشَّمْسِ فِي نِصْفِ اور جاننا چاہیئے کہ یہ قصائد غایت درجہ پر مشہور ہیں النَّهَارِ، وَقَدْ أَجْمَعَ كَافَةُ الْأَدَبَاءِ وَجَهَا بِنُ جیسے سورج دو پہر کے وقت اور تمام جماعت فصیح شعراء نے الشُّعَرَاء عَلى فَضْلِهَا وَكَمَالِ بَرَاعَتِهَا ، اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ اشعار فصاحت اور بلاغت کے